روسی صدر ولادی میر پوٹن نے روس کے زیر اثر کامن ویلتھ کی ریاستوں (سی آئی ایس) کے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس میں افغانستان سے شدت پسندی کے خطرے کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ”متعدد بین الاقوامی دہشت گرد گروہ افغانستان میں کام کر رہے ہیں ”۔
بقول ان کے، عراق اور شام میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے والے متعدد عسکریت پسند اب افغانستان میں سرگرم ہیں اور یہ گروہ سی آئی ایس کی ریاستوں کی سیکیورٹی کے لئے خطرے کا باعث ہیں۔
روسی صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں جنگ سے دہشت گرد بڑی تعداد میں افغانستان کا رخ کررہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیوٹن نے سابق سوویت ریاستوں کے سیکیورٹی سروس کے سربراہوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران کہا کہ افغانستان کی صورتحال آسان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق اور شام سے عسکری کارروائیوں کا تجربہ رکھنے والے دہشت گرد بڑی تعداد میں افغانستان جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ دہشت گرد پڑوسی ممالک میں صورتحال کو غیر مستحکم اور امن خراب کرنے کی کوشش کریں۔