نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے جنرل سکریٹری ناصر منصور ، شہری عوامی محاذ کے ڈپٹی کنوینئر عبدالرحمن بلوچ، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن پاکستان کی جنرل سکریٹری کامریڈ زہرہ اکبر خان، ورکرز رائٹس موومنٹ کے سربراہ کامریڈ گل رحمان اور ترقی پسند رہنما زبیر رحمان نے مشترکہ بیان میں معروف ترقی پسند دانشور ، کالم نویس اور صحافی رہنما وارث رضا کی جبری گم شدگی کی کڑی مذمت کرتے ہوئے ان کی فی الفور بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
مزدور رہنماؤں نے کہا کہ وارث رضا کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد علی الصبح دھاوا بول کر انہیں زبردستی ساتھ لے گئے۔ محترم وارث رضا اس ملک کے نامور صحافی ہیں اور ان کی ساری زندگی محنت کشوں اور مظلوموں کے لئے جدوجہد کرنے سے عبارت ہے۔ ان کا قلم معاشرہ میں ہونے والے ظلم کے خلاف مظلوم کی پکار ہے۔ اس ملک یہ چلن بن چکا ہے کہ حکم ران طبقات کے ظلم اور جبر کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جائے۔ حکم ران ملک میں قبرستان کی سی خاموشی چاہتے ہیں اسی لئے سیاسی ،سماجی کارکنوں، شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کو طاقت کے زور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے وارث رضا کو سندھ کے کیپٹل کراچی سے اس وقت اغوا کیا گیا ہے جب چیف جسٹس آف پاکستان شہر میں موجود ہیں جو ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت کا کھلا ثبوت ہے۔
مزدرو رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ حکومت اس غیر آئینی اور غیرقانونی گم شدگی کا نوٹس لے اور ان کی بلا تاخیر بازیابی کے لئے احکامات جاری کریں۔