افغانستان: طالبان نے میونسپلٹی کی خواتین ملازمین کوکام سے روک دیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کابل کے نئے طالبان میئر نے شہری حکومت کی ملازم خواتین سے کہا کہ وہ اپنے گھروں پر رہیں جب تک کہ اُن کی ملازمت کوئی مرد سرانجام نہیں دے سکتا۔

حمداللہ نعمانی نے کہا کہ طالبان کو ’یہ ضروری محسوس ہوا کہ کچھ عرصے تک خواتین کو کام سے روکیں۔‘

یہ افغانستان کی سخت گیر اسلام پسند حکومت کی جانب سے خواتین پر عائد کی گئی پابندیوں میں سے تازہ ترین ہے۔

نوّے کی دہائی میں طالبان کے پچھلے دورِ حکومت میں بھی خواتین کو کام اور تعلیم سے روکے رکھا گیا تھا۔ طالبان نے رواں برس کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ ’اسلامی قانون کے تحت‘ خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے۔

مگر حالات اس کے کچھ برعکس نظر آ رہے ہیں۔

بظاہر طالبان نے اُمورِ خواتین کی وزارت بند کر دی ہے اور اس کے دفتر میں وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو جگہ دے دی ہے۔

رواں ہفتے سیکنڈری سکول بھی کھول دیے گئے تاہم صرف لڑکوں اور مرد اساتذہ کو ہی سکولوں میں واپسی کی اجازت دی گئی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ لڑکیوں کے سکول دوبارہ کھولنے پر کام کر رہے ہیں۔

حمداللہ نعمانی نے کہا کہ میونسپلٹی کی تقریباً تین ہزار خواتین ملازمین ہیں جن میں سے کچھ کام جاری رکھیں گی۔ ’مثال کے طور پر وہ خواتین کے ٹوائلٹس میں کام کر رہی ہیں جہاں مرد نہیں جا سکتے۔‘

مگر وہ ملازمتیں جن پر اُن کی جگہ مرد لے سکتے ہیں وہاں ہم نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ صورتحال معمول پر آنے تک اپنے گھر پر رہیں۔ اُن کی تنخواہیں جاری رہیں گی۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment