افغانستان پر قابض طالبان کی عبوری حکومت کے آرمی چیف قاری فصیح الدین نے کہا ہے کہ افغانستان میں جلد ’باقاعدہ اور نظم و ضبط‘ فوج تشکیل دی جائے گی جو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے گی۔
افغانستان کے ایک مقامی اخبار اطلاعاتِ روز کے مطابق کابل میں گذشتہ روز ایک اجلاس میں قاری فصیج الدین نے پنجشیر میں طالبان مخالف اتحاد کا ذکر نہیں کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ ’نسل‘، ’مزاحمت‘ اور ’جمہوریت کے دفاع‘ کے نام پر طالبان کے خلاف لڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
طالبان نے گذشتہ ہفتے پنجشیر میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ انھوں نے اس لڑائی میں شہری ہلاکتوں کی تردید کی تھی۔
افغان چینل طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے فصیح الدین کا کہنا تھا کہ نئی فوج اہل افسران پر مشتمل ہوگی اور اس میں گذشتہ حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے فوجی بھی ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے لوگ جنھوں نے تربیت حاصل کی ہے اور پیشہ ور ہیں وہ ہماری نئی فوج میں استعمال ہوسکیں گے۔ ہمیں امید ہے یہ فوج مستقبل قریب میں تشکیل دی جائے گی۔‘