پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق تمام پیش گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں، پڑوسی ملک میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، افغان عوام کے مسائل کے حل کیلئے عالمی برادری کی پائیدار امداد کی ضرورت ہے۔
بدھ کو امریکا اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق ورچوئل وزارتی رابطہ اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اظہار خیال کیا۔
محمود قریشی نے کہا کہ مستحکم اور پر امن افغانستان ہی عالمی برادری کا بہتر شراکت دار بن سکتا ہے، قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔ پاکستان سے بڑھ کر کوئی ملک ایسا نہیں جو چاہتا ہو کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پھر سے آماجگاہ نہ بنے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہمارے ملک کو 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ کہیں القاعدہ، آئی ایس آئی ایس – کے،بی ایل اے، اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہ، افغانستان کی سرزمینِ کو اپنے مضموم مقاصد کیلئے استعمال نہ کریں،یہ صورت حال افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف ایسی مضبوط حکومت ہی افغانستان پر اپنی عملداری قائم کر سکتی ہے اور عالمی برادری کے ساتھ، ان دہشت گردوں کو جگہ نہ دینے کے حوالے سے معاونت کر سکتی ہے جو ہمارے ممالک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، لہذا ضروری ہے کہ ایسا سیاسی خلا پیدا نہ ہونے دیا جائے جس میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو۔