زمانہ قدیم سے ہی پاکستان ایک مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے، ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے افغانستان کی موجودہ صورت حال حوالے دی سنڈے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زمانہ قدیم سے ہی پاکستان ایک مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے۔

بلوچستان میں مقیم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ”سنڈے گارڈین“ کو بتایا کہ یہ واضح ہے کہ پاکستان کبھی بھی مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے۔ ان کے بقول، افغانستان میں زمینی صورتحال ویسے ہی ہے جیسے دوحہ معاہدے سے پہلے تھی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اب بھی اچھی طرح سے مسلح ہیں اور افغان افواج کے خلاف حملے کررہے ہیں۔ اس ہفتے، طالبان نے صوبہ ہلمند میں 41 سے زائد چیک پوسٹوں پر حملہ کیا جبکہ امریکی افواج نے بھی اسی طرح جوابی کارروائی کی۔ زمانہ قدیم سے ہی پاکستان ایک مستحکم افغانستان نہیں چاہتا ہے اور اسی وجہ سے صدر اشرف غنی نے طالبان کے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ وہ پہلے پاکستان سے اپنے تعلقات منقطع کردیں اور تب ہی افغانستان حکومت قیدیوں کو رہا کرنے کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

اطلاعات کے لئے ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا،،000 16سے زائد طالبان جیل میں ہیں جن میں سے بہت سے سخت گیر ممبر ہیں نہ کہ عام زمینی کارکن۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment