افغانستان میں پنجشیر کی وادی میں طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور مزاحمتی تحریک کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دشتِ ریوت کے علاقے میں طالبان فوجیوں کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔
بی بی سی فارسی سروس کے مطابق پنجشیر میں مزاحمتی تحریک کے ترجمان فہیم دشتی نے طالبان ایک پہاڑ پر بم دھماکے کی وجہ سے اس علاقے میں محصور ہو گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی تمام گاڑیاں اور سامان پیچھے رہ گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاک کوتل کے علاقے میں بھی شدید لڑائی جاری ہے، تاہم طالبان نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
طالبان نے اس سے قبل دو پنجشیر کے دو اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔
طالبان اور مزاحمتی اتحاد دونوں کے تازہ دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
تاہم کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کے عہدیداروں نے بتایا کہ طالبان پنجشیر پر آگے بڑھ چکے ہیں اور انابا کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں، جہاں ہسپتال کی ایک شاخ بھی کام کر رہی ہے۔
ایمرجنسی ہسپتال نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ پنجشیر میں شدید لڑائی کی وجہ سے ان کے آپریشن میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور کچھ زخمیوں کو انابا کے علاقے میں ان کے طبی مرکز میں لے جایا گیا۔
ہنگامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لڑائی نے مقامی لوگوں کو اپنے گھروں اور دیہات سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک متاثر ہو گیا ہے۔
پنجشیر افغانستان کا آخری صوبہ ہے جو طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے اور حالیہ دنوں میں وہاں محاذ مزاحمت اور طالبان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔