طالبان نے پنجشیر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اُن لوگوں کو جگہ نہ دیں جو مذاکرات کی بجائے لڑائی کا راستہ چُنتے ہیں۔
بی بی سی کے خدائے نور ناصر کے مطابق طالبان کے دعوت و ارشاد کمیشن کے سربراہ امیر خان متقی نے اپنے ایک تازہ آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ نئے افغان حکومت میں پنجشیر کے لوگوں سمیت تمام افغان شامل ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اب پورے ملک میں کوئی جنگ نہیں ہے اور لوگ پرسکون ہیں۔ تو ایسے وقت میں پنجشیر کے لوگوں کو بھی پرسکون ماحول میں رہنے کی ضرورت ہے۔‘
اگرچہ امیر خان متقی نے اس آڈیو پیغام میں کسی کا نام نہیں لیا، تاہم واضح رہے کہ معزول افغان نائب صدر امر اللہ صالح اور سابق افغان گوریلا کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اس وقت پنجشیر میں ہیں اور انھوں نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔
طالبان کے خلاف دونوں رہنما قومی مزاحمتی فرنٹ کے زہر اہتمام جنگجوؤں کی سربراہی کر رہے ہیں۔ طالبان رہنما امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ جو لوگ کابل اور دیگر صوبوں میں مزاحمت کرنے میں ناکام رہے انھیں پنجشیر جیسے چھوٹے سے علاقے میں جنگ کو ہوا نہیں دینی چاہیے۔