دوسری طرف سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے جرمن اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور ان کا ڈیل کے ذریعے ہتھیار ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
طالبان کی کابل آمد پر امراللہ صالح پنجشیر وادی میں طالبان مخالف اتحاد میں شامل ہوگئے تھے جبکہ صدر اشرف غنی کے متحدہ عرب امارات چلے جانے کے بعد انھوں نے خود کو ملک کا نیا صدر قرار دیا تھا۔
وہ اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ ’علاقائی اعتبار سے ہم تنہا ہیں مگر سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے افغانستان ہمارے ساتھ ہے۔۔۔ طالبان نے سیاسی مفاہمت پر کبھی یقین نہیں کیا تھا۔‘
انھوں نے اس میں وائٹ ہاؤس، امریکی صدر بائیڈن اور سابق صدر ٹرمپ پر بھی تنقید کی۔