طالبان کیساتھ مذاکرات جاری ہیں مگر پیشرفت کم ہے،پنجشیر مزاحتمی اتحاد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان میں طالبان مخالف مزاحتمی اتحاد کے ترجمان جمشید دستی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران طالبان کی جانب سے پنجشیر میں مواصلاتی نظام کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

وادی پنجشیر کے علاوہ افغانستان کے قریب تمام علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مزاحتمی اتحاد نے اپنے ذرائع سے مواصلاتی نظام کو نہ صرف بحال رکھا بلکہ طالبان اور کابل میں موجود کمپنیوں کو پیغام دیا گیا کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

جمشید دستی کا کہنا تھا کہ مواصلاتی نظام ختم کر کے رابطوں کے ذرائع ختم کرنے سے پوری دنیا کے اندر پنجشیر کے رہائشیوں کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

’ہم نے طالبان سے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے علاوہ اخلاقیات کے بھی برخلاف ہوگا۔ انٹرنیٹ اور مواصلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ پنجشیر میں مواصلاتی نظام بند کرتے ہیں تو وہ اپنے فرائض سے روگردانی کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پنجشیر میں اشیائے ضرورت کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ’نظام زندگی چل رہا ہے۔ اگر گھیراؤ لمبا ہوتا ہے تو ہمارے پاس منصوبے موجود ہیں۔ ہم لوگ پنجشیر کی وادی میں محصور رہ کر طویل عرصے کے لیے مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔‘

جمشید دستی کا کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’طالبان اپنی پوزیشن جبکہ مزاحتمی اتحاد کی فورسز اپنی پوزیشن پر ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے طالبان کے ساتھ براہ راست اور بالاواسطہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈیڈلاک کی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ مذاکرات میں پیشرفت کم ہے مگر مذاکرات کسی نہ کسی طرح جاری ہیں۔‘

’ہم اپنے اصولی موقف پر کھڑے ہیں۔ مذاکرات میں مدد کرنے والی تمام قوتوں اور شخصیات کو بتا دیا ہے کہ افغانستان کے لوگوں کے حقوق پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘

Share This Article
Leave a Comment