اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ کابل میں ہونے والے وحشت انگیز حملوں میں ملوث ہیں انھیں ’انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر روپرٹ کولوائل کا کہنا ہے کہ ’افغان دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہلاکت خیز حملوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عام شہریوں، بچوں، خواتین کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ حملے خاص طور پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے، اور ان کے باعث دہشت پھیلی۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسند عناصر کو پکڑیں گے جنھوں نے 90 افغان اور 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا۔