سرنڈر کرنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا،احمد مسعود

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

طالبان مخالف ملیشیا کے رہنما احمد مسعود نے طالبان کے آگے ہتھیار پھینکنے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک بہتر افغانستان کے لیے مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔

بدھ کے دن جریدے پیرس میچ میں شائع ہونے والے انٹرویو میں وادی پنجشیر میں موجود احمد مسعود نے کہا، ”میں سرنڈر کرنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دوں گا۔“ فرانسیسی فلاسفر بیرنڈ ہنری لیوی کو دئے گئے اس انٹرویو میں مسعود کا مزید کہنا تھا، ”میں احمد مسعود کا بیٹا ہوں، ہتھیار پھینکنا میری لغت میں نہیں ہے۔“

طالبان کی طرف سے افغانستان پر قبضے کے بعد دیے گئے اپنے اولین انٹرویو میں احمد مسعود نے دعویٰ کیا کہ قومی مزاحمتی فرنٹ کے بینر تلے ہزاروں جنگجو ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں اور طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔

احمد مسعود نے اپنا مطالبہ دہرایا کہ مغربی ممالک ان کی ملیشیا کو مسلح کریں۔ مسعود نے کہا، ”میں جن سے اسلحہ مانگ رہا ہوں، ان کی طرف سے آٹھ دن قبل کی گئی تاریخی غلطی کو کبھی بھول نہیں سکوں گا۔“

احمد مسعود کے مطابق، ”انہوں نے مجھے انکار کیا۔ اور اب یہ ہتھیار، توپخانے، ہیلی کاپٹرز اورامریکی ساختہ ٹینک طالبان کے ہاتھوں میں ہیں۔“

احمد مسعود نے البتہ کہا کہ وہ خوشحال افغانستان کے لیے مذاکراتی عمل میں شرکت کو تیار ہیں اور انہوں نے مجوزہ معاہدے کے بنیادی نکات بھی تیار کر لیے ہیں، ”ہم بات کر سکتے ہیں۔ سبھی جنگوں میں مذاکرات بھی ہوتے ہیں۔ میرے والد ہمیشہ ہی اپنے دشنموں سے گفتگو کے لیے تیار رہتے تھے۔“

طالبان شدت پسند وادی پنجشیر کا محاصرہ کر چکے ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں سے اس ناقابل تسخیر وادی میں سوویت جنگ کے ہیرو احمد شاہ مسعود کے بیٹے کے علاوہ وہ افغان فوجی بھی موجود ہیں، جو سقوط کابل کے بعد طالبان کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔

ہندو کش پہاڑی سلسلے میں واقع وادی پنجشیر چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے جبکہ اس میں داخل ہونے کے لیے ایک ہی راستہ ہے، جو انتہائی تنگ ہے۔

Share This Article
Leave a Comment