داعش خراسان کے سربراہ ابو عمر خراسانی کابل جیل میں ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغانستان میں نام نہاد عالمی شدت پسند عسکری تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش خراسان کے گرفتار سربراہ شیخ ابو عمر خراسانی افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 15 اگست بروزِ اتور کو افغان طالبان کے کابل پر قبضہ کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

خراسانی کی جنازہ 16 اگست بروز پیر افغانستان کے دوپہر چار بجے افغانستان کے صوبہ کنڑ میں ان کے آبائی ضلع میں ادا کی گئی جس میں کثیر تعداد میں مقامی لوگوں اور ان کے رشتہ داروں نے شرکت کی۔ اس کی تصدیق بی بی سی اردو کو ان کے خاندانی ذرائع اور ان کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے افراد نے کی۔

خراسانی کے علاوہ کابل کے بگرام، پلِچرخی اور افغان ادارے نیشنل ڈائیریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس یا امنیت ملی کے خصوصی جیلوں میں تقریباً دو ہزار کے قریب داعش قیدی موجود تھے جن میں اکثر دیگر قیدیوں کے ساتھ فرار ہوچکے ہیں مگر داعش کے کئی قیدی اس فرار کے دوران مارے بھی جاچکے ہیں۔ مختلف اطلاعات کے مطابق ان واقعات میں داعش کے اسی سے ڈیڑھ سو کے قریب قیدی مارے گئے ہیں جن میں بیشتر بگرام جیل سے فرار ہونے کے وقت ہلاک کیے گئے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی جانب سے صوبائی دارالحکومتوں اور کابل پر قبضے کے دوران کئی جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کروایا گیا جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

داعشی قیدیوں کے مارے جانے کے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ طالبان، داعش کے مارے جانیوالے قیدیوں کے لواحقین اور کابل میں موجود معتبر صحافتی ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے قیدی اس وقت مارے گئے جب بگرام جیل میں قیدیوں کا ہجوم طالبان کے کابل پہنچنے کے ساتھ جیل حکام پر ہلہ بول کر جیل سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا مگر جیل سے نکلنے کے بعد راستہ میں ان پر ڈرون حملہ ہوا۔ کابل میں موجود طالبان کی سینیئر قیادت کے اہم ساتھی خالد زدران نے بتایا کہ اس ڈرون حملہ میں طالبان کے کئی قیدی بھی مارے جا چکے ہیں۔

ایک غیر ملکی صحافی کے مطابق خراسانی کابل میں بگرام فوجی مرکز کے ایک الگ حصہ میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک خصوصی جیل میں قید تھے۔اور خراسانی کے مارے جانے سے محض ایک ہفتہ قبل انہوں نے افغان انٹیلی جنس کے توسط اس خصوصی جیل میں انٹرویو کے لئے ملاقات کی تھی۔

ایک غیر ملکی صحافی کے مطابق خراسانی بگرام جیل کے جس احاطہ میں تھا وہ ڈرون کا نشانہ بننے کی جگہ سے کافی دور ہے۔ ایک دعوے کے مطابق افغان اہلکاروں نے خراسانی کو اس کے آٹھ دیگر قید ساتھیوں سمیت جیل سے نکلتے وقت ہلاک کیا۔ جبکہ خراسانی کے بعض قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق انھیں افغان طالبان نے اس خصوصی جیل پر قبضہ کرنے کے بعد ہلاک کیا ہے۔

طالبان کے ہاتھوں خراسانی یا داعش کے قیدیوں کا مارا جانا خارج از امکان نہیں۔ کابل پر طالبان کے قبضہ سے پہلے اس کے حامی سوشل میڈیاپر کھلم کھلا اس بات مطالبہ کر رہے تھے کہ داعش کے طالبان کے خلاف ماضی میں مظالم کی وجہ سے ان کے قیدیوں کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔ اس کے علاوہ اہم طالبان ارکان نے بھی آف دی ریکارڈ کئی مرتبہ بتایا کہ داعش کے لیے طالبان کی طرف سے کوئی معافی نہیں اور ان کو طالبان محکموں کے فیصلوں کے مطابق سزا دی جائے گی۔

Share This Article
Leave a Comment