ہمارے جنگجو طالبان کیخلاف لڑنے کو تیار ہیں، قومی مزاحمتی فرنٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ہزاروں افراد لڑنے کو تیار ہیں۔

نازاری نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس کے گروہ کے پاس’ہزاروں افراد طالبان کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔ لیکن وہ پہلے پرامن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ مذاکرات ناکام ہو گئے تو پھر ہم کسی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کریں گے۔‘

وادی پنجشیر طالبان مخالف مزاحمت کاروں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

وادی پنجشیر اس وقت افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ بن کر سامنے آئی ہے جہاں احمد مسعود کی قیادت میں ایک قومی مزاحمتی فرنٹ سامنے آیا ہے۔

فرنٹ کے ایک رکن علی نذری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ احمد مسعود کی قیادت میں ہزاروں جنگجو وہاں اکٹھے ہو چکے ہیں۔

نذری نے طالبان پر معنی خیز مذاکرات کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’مسعود کے ساتھی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

’قومی مزاحمتی فرنٹ کا ماننا ہے کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے بنیادی مسائل کو حل لیا جائے۔ ہم اسی راستے پر نہیں چل سکتے جو ہم پچھلے 40 برس سے یا 100 یا 200 برس سے ملک میں دیکھتے آ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ وہ سیاسی نظام ہے جس میں مرکز کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔

’افغانستان مختلف نسلی اقلیتوں سے بنا ہے، یہ کئی ثقافتوں کا وطن ہے۔ یہاں اشتراک کی ضرورت ہے، ایک ایسے اشتراک کی جہاں ہر کوئی اپنے آپ کو حکومت میں دیکھ سکے۔ اگر ایک سیاسی قوت حاوی ہونا چاہے، بیشک وہ جہاں سے بھی ہوں، اس سے خانہ جنگی کو ہوا ملے گی اور حالیہ لڑائی جاری رہے گی۔‘

Share This Article
Leave a Comment