احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ صرف پنجشیر کے لوگ ہی نہیں کھڑے بلکہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ ان کے ساتھ آ کر مل رہے ہیں۔
اتوار کو خبر رساں ادارے روئٹرز کو پنجشیر سے دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ جنگ نہیں چاہتے تاہم وہ اور ان کی جنگجو لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
دارالحکومت کابل کے شمال میں پنجشیر وادی طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری بڑا گڑھ ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر طالبان حملہ آور ہوئے تو وہاں جمع ہونے والے جنگجو مقابلہ کریں گے۔
احمد مسعود کے علاوہ نائب صدر امراللہ صالح نے بھی اس علاقے میں پناہ لی ہے اور طالبان کے خلاف بغاوت کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ طالبان کو اس بات کا حساس ہوگا کہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان نے ان کے علاقوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو ان کے حامی لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
’وہ دفاع کریں گے، وہ لڑیں گے۔ وہ کسی بھی ناجائز حکومت کی مخالفت کریں گے۔‘
احمد مسعود کے انٹرویو سے قبل طالبان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں وعوی کیا گیا تھا کہ ان کے جنگجو افغان فوجی سازومامان کے ساتھ پنجشیر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔
تاہم احمد مسعود کے مطابق اب تک کوئی طالبان پنجشیر وادی نہیں پہنچے۔