روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعے کو کہا ہے کہ دوسرے ممالک کو افغانستان پر اپنی مرضی مسلّط نہیں کرنی چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وہ ماسکو میں جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے ساتھ مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔
صدر پوتن نے اُمید کا اظہار کیا کہ طالبان اپنے وعدے پورے کریں گے اور یہ اہم ہے کہ دہشتگردوں کو افغانستان سے نکل کر خطے کے دوسرے ممالک میں پھیلنے سے روکا جائے۔
ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ’باہر سے بیٹھ کر اجنبی اقدار مسلّط کرنے اور اُن ممالک کے لیے اجنبی ماڈل کی جمہوریت تیار کرنے کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو رکنا چاہیے جس میں تاریخی، قومی اور مذہبی روایات کو مدِنظر نہیں رکھا جاتا۔‘
’ہم افغانستان کو جانتے ہیں، ہم اُن لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور ہم نے سیکھا ہے کہ یہ ملک کیسے کام کرتا ہے، اور اس کی روایات کے برعکس سیاسی اور سماجی نظام اس پر نافذ کرنا کتنا نقصاندہ ہو سکتا ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا: ’ایسے کوئی بھی سیاسی اور سماجی تجربے ماضی میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور اس سے صرف ریاستوں کی بربادی اور اُن کے اپنے سیاسی اور سماجی نظام کی تباہی ہوئی ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ طالبان نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں اور سفارتکاروں کی سلامتی کی یقین دہانی کروائی ہے اور اُنھیں اُمید ہے کہ اس سب پر عمل ہوگا۔
واضح رہے کہ روس اور افغانستان کا تعلق نہایت پیچیدہ اور تلخ رہا ہے۔ سنہ 1978 میں سرد جنگ کے دوران افغانستان میں کمیونسٹ بغاوت ہوئی اور اس انقلاب کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو کچلنے کے لیے سوویت یونین نے اگلے ہی سال افغانستان پر حملہ کر دیا۔
سوویت فورسز نے مجاہدین کہلانے والے مقامی جنگجوؤں کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ ان جنگجوؤں کو پاکستان اور امریکہ کی مدد حاصل تھی۔ سوویت افغان جنگ 10 سال تک جاری رہی اور افغانستان کے لیے نہایت ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔
دس لاکھ کے قریب افغان مارے گئے۔ جنگ کے بعد مجاہدین میں آپسی لڑائیوں کے بعد طالبان ابھر کر سامنے آئے۔
سنہ 1992 میں سوویت یونین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر مختلف ملکوں میں بٹ گیا۔ عام خیال یہی ہے کہ افغانستان کی جنگ نے براہِ راست سوویت یونین کے ٹوٹنے میں کردار ادا کیا۔