تاجکستان میں افغان سفیر نے بھی طالبان کیخلاف مزاحمت کا اعلان کردیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح سمیت سابق جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے طالبان کے اقتدار کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے اوراب تاجکستان میں افغان سفیر نے طالبان کے اقتدار کو مسترد کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کا اعلان کردیاہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق تاجکستان میں افغان سفیر ظاہر اغبار نے اپنے ملک میں طالبان کے اقتدار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل کے شمال میں واقع صوبہ پنج شیر مزاحمت کا گڑھ ہو گا اور وہاں قائم مقام افغان صدر امراللہ صالح اس مزاحمت کی قیادت کریں گے۔

افغانستان کے پہلے نائب صدر امراللہ صالح نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان کے کابل پر قبضے اور صدر اشرف غنی کے بیرون ملک فرار ہونے کے بعد اب میں افغانستان کا قانونی عبوری صدر ہوں۔

افغان سفیر ظاہر اغبار نے طالبان کے ہاتھوں شکست کا ذمے دار اشرف غنی کو قرار دیا اور ان کی جگہ اب سفارتخانے میں امراللہ صالح کی تصویر لگا دی ہے۔

انہوں نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ طالبان جنگ جیت چکے ہیں، یہ صرف ڈاکٹر اشرف غنی ہیں جنہوں نے غداری کرتے ہوئے طالبان سے مذاکرات کیے اور اقتدار چھوڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امراللہ صالح کی قیادت میں صرف پنج شیر مزاحمت کرے گا اور ایسے تمام لوگوں کے خلاف جدوجہد کرے گا جو لوگوں کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔

پنج شیر کی وادی میں اب بھی ان مسلح گاڑیوں کے ملبے کے ڈھیر موجود ہیں جنہیں 1980 میں سوویت یونین کے دور میں مجاہدین کے سابق رہنما احمد شاہ مسعود کی فوج نے تباہ کردیا تھا۔

یہ علاقہ اس کے بعد آنے والی دہائی میں بھی طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت بنا رہا اور اس شمالی اتحاد کا گڑھ تھا جس کی مدد سے امریکا نے 2001 میں طالبان کو شکست دی تھی۔

البتہ یہ بات غیر واضح ہے کہ امراللہ صالح کی مزاحمت کس حد تک مؤثر ہو گی یا وہ طالبان سے سمجھوتے پر تیار ہو جائیں گے جو ابھی تک اس علاقے میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔

امراللہ صالح کے سینئر ساتھی احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ حامیوں کے ساتھ پنج شیر میں موجود ہیں البتہ ان کے آئندہ اقدامات کے حوالے سے جاننے کے لیے ترجمان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔

غیرمصدقہ اطلاعات کے بعد امریکا کے تربیت یافتہ کچھ دستے مزاحمت کے لیے اس علاقے میں جمع ہو رہے ہیں اور مبینہ طور پر امراللہ صالح کی قیادت میں لڑیں گے۔

ممکنہ مزاحمت طالبان کی پوری ملک میں متفقہ حکومت کے قیام کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

تاجکستان میں افغان سفیر ظاہر اغبار نے کہا کہ اگر طالبان دوسروں کو امن کے ساتھ جینے دیتے ہیں تو ایک ایسی اتحادی حکومت کا ساتھ دینا ممکن ہے جو افغانستان کے تمام دھڑوں کی نمائندگی کرتی ہو۔

Share This Article
Leave a Comment