افغانستان کے معزول صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھ کروڑوں ڈالر لے جانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اُنھیں صدارتی محل چھوڑتے وقت اپنا ذاتی سامان یہاں تک کہ اپنی چپل اتار کر جوتے پہننے کا وقت بھی نہیں ملا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ محل چھوڑنے کے بعد طالبان صدارتی محل میں داخل ہو گئے تھے اور اُن کو ڈھونڈ رہے تھے۔
اشرف غنی نے کہا ہے کہ اُنھوں نے ملک اس لیے چھوڑا تاکہ کابل میں خون ریزی نہ ہو۔
ساتھ ہی ساتھ اُنھوں نے صدارتی محل چھوڑتے ہوئے اپنے ساتھ کروڑوں ڈالر لے جانے کے الزام کی تردید بھی کی ہے۔
فیس بک پر جاری اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اُنھوں نے کہا کہ ’اگر میں رکا رہتا تو کابل میں مزید خون ریزی ہوتی۔
‘ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے حکومتی اہلکاروں کے مشورے پر افغانستان چھوڑا ہے۔
واضح رہے کہ اشرف غنی کابل پر طالبان کے قبضے سے عین قبل ملک چھوڑ کر جانے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔
اُن کے قابلِ اعتماد ساتھی امراللہ صالح نے خود کو اُن کی جگہ پر نگران صدر قرار دے دیا ہے۔