تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ وہ امراللہ صالح کو افغانستان کا حکمران تسلیم کرتے ہیں۔
افغانستان کے آئین کے مطابق نائب صدر اول کو صدر کی غیر موجودگی میں ریاست کا سربراہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ خبر رساں ادارے اویستا نے تاجکستان میں افغانستان کے سفیر محمد ظاہر اکبر کے حوالے سے بتایا کہ اُنھوں نے اشرف غنی کے افغانستان سے فرار ہونے کو دھوکہ قرار دیا۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ اشرف غنی اپنے ساتھ 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بھی لے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ 17 اگست کو افغانستان کے نائب صدر اول امر اللہ صالح نے خود کو ملک کا نیا نگران صدر قرار دیا تھا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ امراللہ صالح اپنے آبائی صوبے پنجشیر میں ہی ہیں۔
افغان سفیر محمد ظاہر اکبر نے دوشنبے میں سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر اشرف غنی کی پرواز قوم اور ملک کے ساتھ دھوکا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر کی غیر موجودگی میں سینئر نائب صدر ملک کا نگران ہوتا ہے اس لیے امراللہ صالح اس وقت افغانستان کے قائم مقام صدر ہیں۔
طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو گرفتار کرلیا جائے۔
ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو سرکاری خزانہ لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے تاکہ فنڈ افغانستان کو واپس مل سکیں’۔