خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان عسکریت پسند افغانستان کے دارالحکومت کابل کو 30 روز میں الگ تھلگ کرنے کے بعد تقریباً 90 دنوں میں ممکنہ طور پر اس پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے اپنا نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بدھ کے روز امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے دوران ملک بھر میں طالبان کی فتوحات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کابل کتنے عرصے تک اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا۔
مگر اس عہدے دار نے مزید کہا کہ یہ حتمی نتیجہ نہیں ہے۔ افغان فورسز اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا کر طالبان کی پیش رفت کو پلٹ بھی سکتی ہیں۔
اس سے قبل منگل کے روز یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا تھا کہ اسلام پسند عسکری گروپ ملک کے 65 فی صد علاقے پر قابض ہو چکا ہے اور اس نے 11 صوبائی دارالحکومتوں پر یا تو کنٹرول حاصل کر لیا ہے یا وہ اس کے نشانے پر ہیں۔
امریکی عہدے دار نے یہ بھی تصدیق کی کہ بدھ تک 8 صوبائی صدر مقام طالبان کے قبضے میں جا چکے تھے۔
افغانستان کے دارلحکومت کابل کو جانے والے تمام راستے لوگوں کے اژدہام سے اٹے پڑے ہیں جو ملک کے دیگر علاقوں میں جاری لڑائی اور طالبان کے خوف سے فرار ہو کر پناہ کی تلاش میں وہاں جا رہے ہیں۔
مغربی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حالات میں یہ کہنا دشوار ہے کہ آیا مہاجرین کے بھیس میں طالبان بھی کابل میں داخل ہو رہے ہیں یا نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ”خدشہ یہ ہے کہ خودکش بمبار سفارتی علاقے میں داخل ہو کر تخریب کاری نہ کریں، جس کی وجہ سے ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جسے جتنی جلد موقع ملے، کابل سے چلا جائے”۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز افغانستان کے شمال صوبے بدخشاں کا صدر مقام فیض آباد بھی طالبان کے ہاتھ میں چے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے، جسے کابل حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ سمجھا جا رہا ہے جو وہاں طالبان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
بدخشاں کی صوبائی کونسل کے ایک رکن جواد مجددی نے بتایا ہے کہ طالبان نے منگل کے روز فیض آباد پر حملہ کرنے سے قبل شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ انہوں نے رائٹرز کو بتایا کہ بدخشاں کے جانے سے شمال مشرق کا پورا علاقہ طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔
بدخشاں صوبے کی سرحدیں چین، پاکستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں۔
طالبان کی پیش قدمی کی رفتار نے کابل حکومت اور اس کے حامیوں کو ششدر کر دیا ہے۔
صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 20 برسوں کے دوران افغان فوج کی تربیت، حربی سامان اور ملک کے دیگر شعبوں کی ترقی پر ایک ٹریلن ڈالر صرف کیے ہیں۔ اب افغانستان کو اپنا دفاع خود کرنا ہے۔
امریکی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان فوج اپنی تعداد، تربیت اور سامان حرب کے لحاظ سے طالبان عسکریت پسندوں سے کہیں آگے ہے اور وہ ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
افغانستان سے امریکی قیادت کی غیر ملکی افواج کا انخلا اس ماہ کی 31 تاریخ کو مکمل ہو رہا ہے۔ تاہم، امریکی طیارے اب بھی طالبان کے خلاف لڑائیوں میں کابل حکومت کی فورسز کی مدد کر رہے ہیں۔
افغانستان کی صورت حال سے متعلق انٹیلی جنس کے تجزیے سے آگاہ امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے کئی ممکنہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن میں طویل جنگ اور طالبان اور کابل کی موجودہ حکومت کے درمیان گفت و شنید کے بعد کسی معاہدے پر پہنچنا شامل ہے۔