افغانستان: میڈیا انفارمیشن ڈائریکٹرقتل،عبدالرشید دوستم کا گھر نذرآتش

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

افغانستان میں ملک کے میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو دارالحکومت کابل میں طالبان کے شدت پسندوں نے قتل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ افغانستان کے وزیر دفاع کے گھر پر حملے کے دو روز بعد پیش آیا ہے۔

طالبان نے وزیر دفاع کے گھر پر حملے کے بعد مزید حکومتی شخصیات کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

افغان حکومت کے میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے قتل ہونے والے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کابل کے دارالامان روڈ پر قتل کیا گیا۔

وہ باقاعدگی سے افغان حکومت کی اطلاعات ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کرتے تھے اور اُن کے ایک لاکھ 42 ہزار سے زیادہ فالوور تھے۔

بدھ کے روز ملک کے وزیر دفاع کے گھر پر ہونے والا حملہ تقریباً ایک سال میں شدت پسندوں کی طرف سے کابل میں پہلی بڑی کارروائی تھی۔

میڈیا سنٹر کے ڈائریکٹر کے قتل پر رد عمل میں افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان میروائس ستانیکزئی نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے ظالم دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر بزدلانہ کارروائی کی اور ایک محبِ وطن افغان کو ہلاک کر دیا۔’

استانکزئی نے مزید کہا کہ ‘ میناپال ایک ایسا نوجوان تھا، جو دشمن کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا رہتا تھا اور ہمیشہ حکومت کا حامی تھا۔‘

طالبان نے دوا خان میناپال کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ چند روز قبل طالبان نے افغان فورسز کے فضائی حملوں کے جواب میں حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان وزارت داخلہ نے جمعے کو کہا کہ مسلح افراد نے گورمنٹ انفارمیشن میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان میناپال کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ افغان حکومت کے عہدیدار کا قتل ایسے وقت پر ہوا ہے، جب طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور ملک کے کئی حصوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔

ایک حکام نے بتایا کہ کابل میں دوا خان میناپال پر جمعے کی نماز کے دوران فائرنگ کی گئی۔

طالبان نے میڈیا کے نام جاری کردہ ایک پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ میناپال کو گروپ کے ایک جنگجو نے ‘ایک خاص حملے‘ میں ہلاک کیا اور انہیں ‘ان کے اعمال کی سزا دی گئی۔‘

افغان فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف فضائی حملوں میں تیزی کے بعد طالبان نے اعلیٰ حکومتی عہدیداران کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ قبل ازیں منگل کے روز طالبان نے افغان وزیر دفاع کے گھر کو نشانہ بنایا تھا۔ وزیر دفاع اس قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع اس وقت سے شدت اختیار کر گیا جب مئی میں غیر ملکی فوجیوں کا ملک سے انخلاء شروع ہوا۔

دریں اثنا طالبان نے شبرغان میں مارشل عبدالرشید دوستم کے گھر کو نذر آتش کردیا۔

افغان شہر شبرغان میں افغان فورسز اورطالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے، جہاں طالبان نے مارشل عبدالرشید دوستم کے گھر کو آگ لگادی۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان صوبے بیجوز جان کے شہر شبر غان میں داخل ہوگئے ہیں۔

افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے شبرغان میں مارشل عبدالرشید دوستم کے گھر کو آگ لگادی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment