افغانستان میں طالبان حملوں میں شدت آنے اور متعدد اضلاع طالبان ں کے قبضے میں جانے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس جمعے (کل) کو منعقد ہو رہا ہے۔
یہ اجلاس انڈیا کی زیرِ صدارت ہو گا اور اقوامِ متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب ٹی ایس تریمورتی اس کی سربراہی کریں گے۔
افغان حکومت نے دو دن قبل سلامتی کونسل سے افغانستان پر ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے اپنے انڈین ہم منصب جے شنکر سے بات چیت میں اس اجلاس کو بلانے کی درخواست کی تھی۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کے حالیہ واقعات پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ افغانستان میں ’امارت اسلامی کی بحالی‘ کی حمایت نہیں کرتی۔
طالبان سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک افغانستان میں اپنی حکومت کو ’اسلامی امارت‘ کا نام دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو افغانستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر ’شدید تشویش‘ ہے اور وہ تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے مغربی شہر ہرات اور جنوبی شہروں ہلمند کے مرکز لشکرگاہ اور قندھار پر کنٹرول کے لیے طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے جہاں افغان فورسز طالبان کے خلاف فضائی حملے جبکہ طالبان اُن کے خلاف راکٹ حملے کر رہے ہیں۔
بی بی سی کے نمائندے خدائے نور ناصر کے مطابق افغان فورسز نے لشکرگاہ میں طالبان کے خلاف سرچ آپریشن شروع کیا ہوا ہے اور شہریوں کو وہاں سے نکلنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ہلمند کے مرکزی شہر لشکرگاہ میں عینی شاہدین کے مطابق طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی بھی شہر کے مختلف حصوں میں جاری ہیں جہاں طالبان گورنر آفس اور پولیس ہیڈ کوارٹر کے قریب پہنچنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق گذشتہ روز طالبان نے گورنر آفس اور پولیس ہیڈکوارٹر پر کنٹرول کے لیے بڑے حملے کیے لیکن فورسز نے یہ حملے پسپا کر دیے۔
حکومت نے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ شہریوں کے گھروں میں گھس کر زبردستی پناہ لیتے ہیں اور پھر وہاں سے فورسز پر حملے کرتے ہیں۔