برطانوی عدالت نے نیب کو 12 لاکھ ڈالر براڈشیٹ کو ادا کرنیکا حکم دیدیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لندن کی ایک ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور حکومت پاکستان کو اثاثہ برآمدگی فرم براڈ شیٹ ایل ایل سی کو آئندہ ہفتے تک 12لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے نیب اور پاکستانی حکومت کو 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاؤنڈز کے ساتھ ساتھ نیب کے وکیل کو دعوے دار کی درخواست کی لاگت کے 26 ہزار 296 پاؤنڈ 10 اگست کی شام ساڑھے 4 بجے تک ادا کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نیب کی وکالت فرم ایلین اینڈ اووری حکومت پاکستان سے موصول ہونے والے فنڈز 13 اگست کی شام ساڑھے بجے تک براڈ شیٹ کی وکیل ایل ایل سی سولیسٹرز کروویل اینڈ مورنگ کو ادا کرے گی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر حکومت پاکستان اور نیب نے اپنے وکلا کو براڈشیٹ کو ادائیگی کے لیے رقم فراہم نہ کی تو براڈ شیٹ کین وکیل یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل یو کے) کو نوٹیفائی کرے گی اور پھر بینک اس رقم کی ادائیگی کرے گا۔

ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر لاگو ہوجائے گا جو کریڈیٹر کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس کے پاس بھی رقم ہے اس سے لے لے۔

نیب اور براڈ شیٹ ایک مرتبہ پھر عدالت میں اس وقت پہنچے جب دونوں قانونی اخراجات اور سود کی ادائیگی پر متفق نہیں ہوسکے تھے۔

نیب کی جانب سے وکلا نے 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاؤنڈز ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن براڈ شیٹ کی جانب سے 33 ہزار پاؤنڈ سود اور 35 ہزار پاؤنڈ کے قانونی اخراجات ادا کرنے کی مخالفت کی۔

چنانچہ عدالت نے حکم دیا کہ 12 لاکھ ڈالر اور 110 پاؤنڈ کی ادائیگی کے ساتھ نیب اور حکومت پاکستان براڈ کو 26 ہزار 296 پاؤنڈز بھی ادا کریں گے، یہ رقم براڈشیٹ کے سود اور اخراجات کی مد میں کیے گئے مطالبے سے کم ہے۔

Share This Article
Leave a Comment