نیٹو کا ایرانی میزائل دعوے کی تصدیق سے انکار،برطانیہ نے شواہد کی تردید کر دی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read
فوٹو بشکریہ اے پی

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹّے نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس دعوے کی جانچ کر رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں جو یورپی دارالحکومتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ تہران کے پاس ایسے میزائل ہیں جو لندن، پیرس اور برلن تک مار کر سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے پروگرام فیس دی نیشن میں گفتگو کرتے ہوئے مارک رٹّے نے کہا کہ نیٹو اس دعوے کی فی الحال تصدیق نہیں کر سکتا، تاہم اگر یہ درست ثابت ہوا تو یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق ایران اس صلاحیت کے "بہت قریب” پہنچ چکا ہے، جبکہ ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے پر حملے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی میزائل واقعی ڈیاگو گارشیا تک پہنچے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ تہران یہ صلاحیت پہلے ہی حاصل کر چکا ہے، اور اگر نہیں تو بھی ایران اس کے قریب ضرور ہے۔

دوسری جانب برطانوی حکومت نے اسرائیلی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کوئی شواہد موجود نہیں کہ ایران کے پاس لندن تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ سیکریٹری سٹیو ریڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ نہ تو ایران برطانیہ کو نشانہ بنا رہا ہے اور نہ ہی اس بات کے ثبوت ہیں کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ ایران کی جانب سے بحرِ ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد کیا تھا۔ ان میں سے ایک میزائل ناکام ہو کر گر گیا جبکہ دوسرے کو مار گرایا گیا۔ یہ جزائر ایران سے تقریباً 3,800 کلومیٹر دور واقع ہیں۔

برطانوی وزیر نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ ایرانی میزائل برطانوی سرزمین کے کتنے قریب پہنچے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ "آپریشنل تفصیلات” ظاہر نہیں کر سکتے۔

نیٹو، برطانیہ اور اسرائیل کے بیانات کے بعد خطے میں ایرانی میزائل صلاحیت کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

Share This Article