ایران بارڈر کی بندش کیخلاف پنجگور میں آل پارٹیز کا احتجاجی ریلی و دھرنا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان ایران بارڈر کی بندش کیخلاف پنجگور میں آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی،پنجگور انجمن تاجران، کمیٹی زمیاد گیرج اٹوز یونین طلباء اور دیگرشعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد پرمشتمل پنجگور سے متصل ایران سرحد کی بندش،تیل بردار چھوٹی گاڑیوں پر اسٹیکر اور ٹوکن سسٹم مسلط کرنے کے خلاف ایک تاریخی ریلی نکالی گئی جس میں پنجگور بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ریلی شرکاء نے مین بازار سے ہوتے ہوئے مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر افس کے باہردھرنا دیااور ٹوکن اسٹیکر سسٹم ختم کرنے،ایران سرحد پر آزادانہ کاروبار کرنے کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریلی کے شرکا نے ٹوکن اسٹیکرسسٹم اور بارڈر بندش کے خلاف پلے کارڈزاوربینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت سے باعزت روزگار فراہم کرنے کے مطالبات درج تھے۔

دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ایران بارڈر سے مکران کے عوام کے خونی خاندانی رشتوں کے ساتھ روزگارکے ذریعے بھی وابستہ ہیں بارڈر پر پابندی اور نت نئے حربے دراصل حکومتی سہولت نہیں بلکہ مکران بلخصوص پنجگور کے عوام کے معاشی قتل عام اور یہاں کے باسیوں کو بھوک افلاس تنگ دستی کا شکار بنا کر بلوچ قوم کی نسل کشی کے مترادف ہے۔

مقررین نے کہا کہ ایران بارڈر سے ہزاروں افراد محنت مزدوری کرکے گھر بارچلا کر اپنے بچوں اور خاندان کے تعلیمی معاشی ضروریات پوری کرتے ہیں اورزراعت بھی ایران بارڈر کا محتاج ہے بلکہ یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ پاک ایران بارڈر پنجگور اورمکران سمیت پورے بلوچستان کے عوام کی موت اور زیست کا سوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران بارڈر کے علاوہ ہمارے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں ہے، بلوچ حلال روزی اور محنت مزدوری سے جینے کا حق چاہتا ہے۔ ہم کوئی دہشت گرد یا تخریب کار نہیں، دوسرے اقوام اور صوبوں کے ساتھ ہم بھی محب وطن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجگور کے عوام کو ایران سرحد پر پابندی اور چھوٹے گاڈیوں پر اسٹیکر اور ٹوکن سسٹم ہر گز قبول نہیں ہے پہلے کی طرح ہمیں آزادانہ ماحول میں کاروبار کرنے دیا جائے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ایران سرحد پر پابندی ختم کرکے ٹوکن اور اسٹیکر سسٹم کو ختم کیا جائے ہم باعزت شہری ہیں اپنی تزلیل اور بے عزتی برداشت نہیں کرینگے۔

Share This Article
Leave a Comment