حزب اللہ نے لبنان کے شہریوں کو ٹائم بم کے فیوز میں ڈال دیا ہے، اسرائیل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لبنان میں اسمگلنگ کی سب سے بڑی کھیپ کے پکڑے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے الزام عاید کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے باشندوں کو اپنے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے فوجی حربے کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ نطبیہ کے علاقے میں ’عبا‘ نامی قصبے میں ایک اسکول سے 25 میٹر دورحزب اللہ ملیشیا کا اسلحہ کا ایک ڈپو موجود ہے۔

اسرائیلی فوج نے بتایا کہ اسلحہ کا یہ گودام شمالی فوجی کمانڈ کے آنے والے ہزاروں اہداف میں سے ایک ہے جسے لبنان میں آئندہ کسی بھی جنگ میں نشانہ بنایا جائے گا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا شہری آبادی کو ڈھال کے طورپر استعمال کررہی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نبطیہ گورنری میں واقع عبا پبلک اسکول سے چند میٹر (25 میٹر) کے فاصلے پر رہائشی محلوں کے قلب میں بنایا گیا ہتھیاروں کا ڈپو 300 سے زائد طلباء کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

فوج نے نشاندہی کی کہ حزب اللہ رہائشی علاقوں میں اپنے فوجی سامان کی ذخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ مذکورہ بالا ہدف ہزاروں ایسے ہی اہداف میں سے ایک ہے جس نے لبنان کے شہریوں کو خطرہ اور ٹائم بم کے فیوز میں ڈال دیا ہے۔

یہ بات اسرائیلی فوج کے ترجمان افیحائی ادرعی نے لبنان کی سرحد پر برسوں میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی سب سے بڑی کوشش کو ناکام بنانے کے اعلان کے چند ہی دن بعد کی ہے۔ غجر کے علاقے میں 43 ہتھیار ضبط کیے گئے تھے۔

ادرعی نے گذشتہ ہفتہ ٹویٹر پر کہا تھا کہ گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوج کے سروے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اس علاقے میں واضح اور خفیہ ذرائع کے ذریعہ غجر گاؤں کے علاقے میں لبنان سے اسرائیل بیگز لے جانے والے مشتبہ افراد کو جاتے دیکھا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج حزب اللہ کے اسمگلنگ کی کوشش کو مدد فراہم کرنے کے امکانات کی جانچ کر رہی ہے اور پولیس حزب اللہ کے سہولت کاروں کی شناخت کے بارے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment