سینیٹ میں بل منظور، دوران حراست تشدد اور موت قابل سزا جرم قرار

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کی سینیٹ میں اپوزیشن رکن کی جانب سے پیش کیا گیا دوران حراست تشدد اور موت کے انسداد اور سزا کا بل 2021 منظور کر لیا گیا۔

سینیٹ میں مذکورہ بل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پیش کیا اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد میں ملوث کسی بھی سرکاری ملازم کو 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگر کوئی سرکاری ملازم، جس کا فرض تشدد کو روکنا ہے، وہ جان بوجھ کر یا غفلت برتتے ہوئے اس کی روک تھام میں ناکام رہتا ہے تو اسے 5سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بل کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ جو بھی شخص دوران حراست موت یا جنسی تشدد کے جرم کا ارتکاب یا اس کی سازش کرے گا تو اسے عمر قید اور 30لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید براں اگر کوئی سرکاری ملازم جس کا دوران حراست اموات یا جنسی تشدد کی روک تھام ہے، اگر وہ جان بوجھ کر یا غفلت کے نتیجے میں ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں کم از کم 7سال قید اور 10لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بل کے مطابق جرمانہ مقتول یا ان کے قانونی ورثا کو ادا کیا جائے گا، اگر جرمانہ ادا نہیں کیا گیا تو جرم کا ارتکاب کرنے والے سرکاری ملازم کو بالترتیب 3 اور 5 سال تک اضافی قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حراست کے بارے میں بل میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی کسی بھی جرم میں ”کسی ملزم کے ٹھکانے یا ثبوت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کسی کو تحویل میں نہیں لیا جاسکتا جبکہ خواتین کو صرف ایک خاتون اہلکار کے ذریعے تحویل میں لیا جاسکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے ذریعے اقبال جرم عدالت میں ناقابل قبول ہوگا۔

دوران حراست تشدد اور موت(روک تھام اور سزا) کے بل 2021 میں کہا گیا کہ اس ایکٹ کے تحت دی گئی سزا ناقابل معافی اور ناقابل ضمانت تصور کی جائے گی۔

اس بل میں دوران حراست تشدد کی صورت میں شکایت کے اندراج کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے، عدالت موصولہ شکایت کے نتیجے میں درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرے گی اور ہدایت دے گی کہ طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا جائے اور اس معائنے کے نتائج 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ہوں گے۔

اگر شواہد مل گئے کہ تشدد ہوا ہے تو متعلقہ عدالت اس معاملے کو مزید کارروائی کے لیے سیشن کورٹ کے پاس بھیجے گی، سیشن کورٹ تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے 15 دن میں رپورٹ طلب کرے گی، بل میں کہا گیا کہ سیشن کورٹ روزانہ کی بنیاد پر شکایت کی سماعت کرے گی اور 60 دن میں فیصلہ سنائے گی۔

بل کی منظوری پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان آخر کار تشدد کو جرم قرار دینے کے راستے پر گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بل کی منظوری پر بہت خوش ہیں اور اس بل کے لیے تعاون کرنے پر تمام سینیٹرز، وفاقی وزیر انسانی حقوق اور سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سابق چیئرمین مصطفیٰ نواز کھوکھر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

تاہم حکومت کی جانب سے اس بل کی مخالفت کی گئی۔

Share This Article
Leave a Comment