بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں فوجی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج عوام اور فوجی اہلکاروں کے مابین جھڑپ کے اطلاعات سامنے آگئے ہیں۔جبکہ گوادر سے ایک لاش کی برآّمدگی کی اطلاعات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ہرنائی شاہرگ میں تقریباً چار بجے بڑی تعداد میں پاکستانی فوجی اہلکار علاقے میں داخل ہوگئے جس کے باعث عوام سراپا احتجاج ہوگئے اور فوجی اہلکاروں کو گھروں میں گھسنے سے منع کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق شاہرگ میں صبح 4 بجے آرمی اور ایف سی کے ہزاروں اہلکاروں نے جارحیت کی لیکن اہل علاقہ نے ان کو گھروں میں داخل ہونے سے صاف انکار کردیا۔ اس صورت حال میں شاہرگ کے عوام اور فوج کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی۔ اہلکاروں نے عوام پر فائرنگ کی جبکہ جواب میں عوام نے ان پر پتھراؤ کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ تقریباً 44 بڑی گاڑیاں، پچاس کے قریب چھوٹی گاڑیاں، 10 ٹرک، 7 کوسٹر بس فوجی اہلکاروں سے بھرے تھے جبکہ ان میں 200 کے قریب کمانڈوز بھی شامل تھے جبکہ چار کے قریب ہیلی کاپٹر پورے علاقے میں گشت کرتے رہیں۔
تاہم علاقہ مکینوں کی مداخلت کرنے پہ فوجی اہلکار پسپا ہوئے جبکہ انتظامیہ کا موقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجی اہلکار اس علاقے میں کس وجہ سے گئے تھے۔
دریں اثناگوادر سے ایک شخص کی لاش برآمدہوگئی ہے۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے ضلع گوادر جی ڈی اے ہسپتال کے نزدیک ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
ملنے والی لاش کی شناخت عبدالغفار ولد لال بخش نامی شخص سے ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ ضلع گوادر میں وفات پانے والے 60 سالہ شخص عبدالسلام بازار سنگانی سر تربت ضلع کیچ کے رہائشی بتائے جاتے ہیں جو حال ہی میں گوادر کے ساحلی گاؤں جیمڑی میں رہائش پذیر تھے۔ تاحال ان کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔