(بارہ برسوں کا یہ اںتظار قیامت سے کم نہیں)
اِس جہاں میں لاتعداد انسانوں کا جنم ہوا ہے مگر بہت کم ہستیاں ہوتے ہیں جو انسانی ذہنوں میں اپنے نقش چھوڑنے میں کامیاب ہوں، ماضی کے ان کرداروں کی بدولت حال کی تاریخ بنتی ہے اور حال کے ان کرداروں کی بدولت مستقبل کا تاریخ جنم لیتی ہے۔ ان ہستیوں کے کردار کو مورخین کتابوں کی زینت بناتے ہیں۔میں نے بھی اپنی زندگی کے اس میدان میں ایسے انگنت افراد کو دیکھا ہے جو جسمانی طور پر جدا ہوچکے ہیں ان کا کردار مورخ کو قلم اٹھانے پہ مجبور کرتا ہے اور جو زںدہ ہیں یا ان کے زندہ ہونے کی امید (جبری طور پر لاپتہ ہونے والے فرزند) ان میں ایسے بے شمار نام ہیں جن کا کردار بیان کرنا آسان نہیں لیکن قلم ازخود انہیں اجاگر کر ے کے لیے بے قابو ہوتاہے۔ ایسے کرداراہل قلم کو مجبور کرتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا، جو کیا، جس کی خاطر آتش نمرود میں کودنے میں بھی پس و پیش سے کام نہیں لیا ان کے بارے میں بیان کرنے کے لیے قلم کی نوک کو جنبش دی جائے تاکہ ان کے کارنامےزبان زد عام ہوں۔
ان کرداروں میں ایسے کئی شخصیات ہیں جو جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوچکے ہیں اور کئی شخصیات مدتوں سے ریاستی جبر وظلم کا شکار ہیں ہو کرعقوبت خانوں میں قابض کی اذیت برداشت کرریے ہیں۔ان اذیت خانوں میں موجود کئی رہنماوں کی یادیں مجھے قلم وکاغذ اٹھانے پر اکساتا رہتا ہے۔ ان میں ایک نام ڈاکٹر دین جان کا ہے۔ اس مہربان ہر دلعزیز جفاکش شخص کی ملاقات مجھ سے سترہ سال پہلے مئی2004 ءمیں شال( کوئٹہ) میں بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی کونسل سیش میں ہوا۔ اور پہلی ملاقات میں ہی ہم بے تکلف دوست بن گئے۔
"ڈاکٹر دین محمد بلوچ کا تعلق مشکے سے ہے اور وہ بی این ایم کے انقلابی پروگرام کے فکری و نظریاتی دوستوں میں شمار ہوتاہے”. یہ الفاظ شہید غلام محمد بلوچ کے ہیں جنہوں ڈاکٹر دین جان کے متعلق مجھ سے کہا تھا۔
اس تین روزہ کونسل سیشن میں میں نے ڈاکٹر دین جان محمد بلوچ کو ایک مدبر سیاست دان اور سماج کو جھنجوڑنے والا انقلابی کے روپ میں دیکھا۔ انہوں نے انقلابی پروگراموں اور بی ایں ایم کے سلوگن آزادی کو ہر بلوچ تک پہنچانے کیلئے بلوچستان کے طول وعرض کا طواف کرنے کا تہیہ کرچکا تھا۔ ڈاکٹر دین جان کی مہر و خلوص اور جفاکشی نے کم مدت میں بی این ایم کے کاروان کو بلوچستان کی چپے چپے تک پہنچایا۔
ڈاکٹر دین جان2004 کے سیشن میں بی این ایم کے مرکزی کمیٹی کا ممبر منتحب ہوا اور اسی دوران ان کی کوششوں سے بی این ایم کے عظیم لیڈر شہید ڈاکٹر منان جان بھی بی این ایم میں شمولیت اور انقلابی سیاست مین قدم رکھتا ہے۔ دونوں پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اور نظریاتی سیاسی فکر رکھتے تھے اور ڈاکٹر دین جان اورشہید ڈاکٹر منان جان دونوں مشکے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر دین جاں کی کوششوں سے بلوچ ڈاکٹرز فورم اور کئی آزادی پسند تنظیمیں بھی بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے نظریاتی ہمنوا بن گئے۔جس دوران بی این ایم کے بانی قائد شہید غلام محمد کو 3دسمبر 2006 کو کراچی سے پاکستانی ریاستی اہلکاروں نے جبری طور لاپتہ کیا اس دوران بی ایں ایم جمود کا شکار ہوا ورکرز اپنے لیڈر کے اغواہ پر پریشان تھے مگر ڈاکٹر دین جان نے دوستوں اور ورکروں کو حوصلہ دیکر دوسرے ساتھیوں کے ساتھ بلوچستان اور کراچی کا تفصیلی دورہ کرکےورکروں کو منظم اور متحرک کرنا شروع کیا ۔اور بہت جلد بی این ایم واپس منظم ہوا۔
مجھے یاد ہے کہ جب 2007 میں ہم خاندان کے ساتھ بلوچ خواتیں پینل کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کوئٹہ(شال) میں شمولیت کی تو وہاں ڈاکٹر دین جان کئی دوستوں کے ساتھ کیمپ میں ہمیں ملنے آیا۔اس کیمپ کو بی این ایم اور بی ایس اُو آزاد کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔حالانکہ ڈاکٹر دین جان اس دوران حاضرسروس ڈاکٹرتھے۔ مگرحالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بی این ایم کے سیاست میں کلیدی کردار نبھاتے ہوئےسرگرم عمل تھا۔جب شہید قائد غلام محمد ریاست پاکستان کے حفیہ ٹارچر سیلوں میں نو مہینے دس دن بعد بازیاب ہوکر منظرعام پر آیا اور آٹھ جعلی مقدمات میں زیر ضمانت ہوا تو ڈاکتر دین جان دوسرے دوستوں کے ساتھ شہید غلام محمد کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر پارٹی پروگراموں کو مزید افشاکرنے کے لیے کمربستہ ہوگیا اور 2008 کے مرکز ی کونسل سیش کی تیاریوں میں مصروف ہوکر کراچی ملیر میں 15جولائی 2008کےپارٹی کا سیشن منعقد کرنے میں کامیاب ہوگیا اور دوبارہ مرکزی کمیٹی کا رکن منتحب ہوا۔
جب 3اپریل 2009 میں ریاستی دہشتگردی میں شہید غلام محمد ساتھیوں کے ساتھ قابض ریاست کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں جبری طور لاپتہ کرنے اور ازبعد ان کی شہادت کا واقعہ جب پیش آتاہے تو ڈاکٹر دین جان دوسرے دوستوں کے ساتھ اپنے عظیم رہبر کے فاتحہ خوانی میں شرکت کیلئے مند تشریف لائے تو مجھے یہ دیکھ کر دلی تسکین ہوا اور حوصلہ ملا کہ شہید کے کاروان کے ہمسفر آج بھی میرے ساتھ بیھٹے ہوئے ہیں۔مگر آج میں دکھ کے ساتھ یہ چند الفاظ تحریر کرکے اپنے سماج میں اس کارواں کے بہت سارے دوستوں کو یاد کررہا ہوں، جن میں کئی دوست اس المناک دور میں ساتھ چھوڑکر راہ فرار اختیار کرگئے کئی دوست آخری ایام تک ہمسفر رہ کر جام شہادت نوش کرکے تاریخ میں سرخرو ہوئے۔ کئی دوست دس بارہ سال سے لیکر آج تک ریاستی ٹارچرسیلوں میں جسمانی اور ذہنی جبر وتشدد سہہ رہے ہیں جن میں ڈاکٹر دین جان سر فہرست ہے جو 15مئی 2009 ء کو اپنے قاہدین شہدائے مرگاپ کے چہلم میں مند میں شریک مجلس ہوکر مجھے میزبانی کا شرف بخشا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ شرف مجھے شہید آصف جان اور شہید عاطف جان کے چہلم میں نصیب نہ ہوگا جب اِس کاروان کے عظیم ہم سفر نے مجھے الوداع کرکے پھر ملنے کا وعدہ کیا مگر نہ دین جان کو معلوم تھا نہ مجھے اور نا اس شہدائے مرگاپ کے کاروان کے دوسرے دوستوں کو کہ دین جان ہمیں الوادع کرکے اس قوم کی خاطر اذیت خانوں کی نظر ہوگا۔ اس دردناک دور میں جابر ریاست راستے میں ہم سے دین جان کو چھین کر اپنے ٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بناکر ہمیں اور داکٹر دین جان کے معصوم بچوں کو انتطار کی گھڑیاں گننے اور زندہ رہنے پر مجبور کرئیگا۔
جب28 جون2009ءُ کو کسی دوست نے فون پر مجھے یہ المناک اطلاع دی کہ ڈاکٹر دین جان کو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دوران ڈیوٹی اورناچ سے جبری طور پر لاپتہ کیا ہے تو مجھ پر ایک دوسرا قیامت نازل ہوا۔
غلام محمد اور ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشیں اور آصف جان کی لاشں مجھے ملا تو میں مطمئن ہوا مجھے انتظار کرنا نہ پڑا کہ کب بازیاب ہوکر آئینگے۔ آج ہم دین جان کا متواتر بارہ سالوں سے درد اور امید کے ساتھ انتظار کررہے ہیں آج نہیں تو کل اس مہینے یا دوسرے مہنے بازیاب ہوکر ہمیں خوشی نصیب ہوگی۔۔جدائی کے یہ درد کسی قیامت سے کم نہیں۔۔