لاہور کے پوش علاقے جوہر ٹاؤن میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے رہائش گاہ کے قریب دھماکا ہوا ہے جس سے 2 افراد ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہو گئے۔
دھماکے کے حوالے سے متضاد خبریں آرہی ہیں۔
بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ دھماکا حافظ سعید کے گھر کے قریب ہوا ہے۔
لیکن بعض ذرائع کہہ رہے ہیں کہ جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکا ایک گھر میں ہوا ہے جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے سے ایک گھر زیادہ متاثر ہوا جبکہ دیگر گھروں کو بھی دھماکے سے نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو ترجمان کے مطابق دھماکے کے 4 زخمیوں کا جناح اسپتال میں علاج جاری ہے جبکہ 6 افراد معمولی زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 16 افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار، ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں اور جلنے کے باعث تمام زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
بعد ازاں دھماکے کا 2 زخمی دوران علاج دم توڑ گیا گیا جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا دھماکا کسی ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا یا پھر یہ گیس پائپ لائن کا دھماکا تھا تاہم سکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔
جوہر ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے کی ایک عینی شاہد خاتون کا کہنا ہے کہ ایک آدمی موٹر سائیکل کھڑی کر کے گیا،پھر موٹر سائیکل دھماکیسے پھٹ گئی جبکہ اس قسم کی اطلاعات بھی ہیں کہ دھماکا خیز مواد ایک رکشے میں رکھا گیا تھا۔