بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ نسل کشی اور بلوچ خواتین کی عصمت دری جنگی جرائم ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ذریعہ ہونے والے انسانیت کے خلاف ان جرائم پر کارروائی کرے۔
آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ٹیوٹس کے سریز میں کہا ہے کہ
مارواڑ بولان میں جبری لاپتہ چار شہریوں علی بیگ ولد دہی خان، خیرو ولد شاہ میر، مراد ولد نہل خان، مراد بخش ولد نورخان کا قتل بدمعاش پاکستانی فوج کی ”مارو اور پھینکو“ پالیسی کا تسلسل ہے۔ کچھ ماہ قبل انہوں نے دشت مستونگ میں چار شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ دو ہفتے قبل انہوں نے کیلکور پنجگور کے چھ دیہاتوں پر چھاپہ مارا اور ایک درجن سے زائد بلوچ خواتین کے ساتھ عصمت دری کی۔ بلوچ نسل کشی اور بلوچ خواتین کی عصمت دری جنگی جرائم ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے ذریعہ ہونے والے انسانیت کے خلاف ان جرائم پر کارروائی کرے۔