ضلع کیچ: آل پارٹیز کاگہرام نادل کے حراستی قتل کے خلاف احتجاج کا فیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ضلع کیچ میں ہفتے کے روز دشتی ہاؤس میں آل پارٹیز کیچ کے کنوینتر نصیرگچکی کی زیر صدارت اجلاس میں گہرام نادل قتل کے خلاف پریس کانفرنس، احتجاج، پارٹی سربراہان اور میڈیا ہاؤسز کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں کونشکلات تمپ میں گہرام نادل کے حراستی قتل اور ان کے ساتھیوں کی جبری گمشدگی پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

کنوینر نصیر گچکی نے واقعہ اور اس کے پس منظر پر شرکاء کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ گھرام اور اس کے تین ساتھیوں کو 12 جون کی رات چار بجے گھر سے ایف سی نے اٹھاکر جبری لاپتہ کیا، 15 جون کو ان کی شھادت سے قبل فورسز کی طرف سے صبح فون کرکے چاروں کو شام تک رہا کرنے کی بات بھی کی گئی لیکن رات دس بجے کے قریب مجھے فون کرکے بلایا گیا اور وہاں گہرام نادل کے دوران تفتیش ہارٹ اٹیک کے سبب شھادت کی اطلاع دے کر لاش وصول کرنے کو کہا گیا جس پر میں نے انکار کیا۔

بعد میں پولیس کے ذریعے لاش ورثاء کے حوالے کیا گیا جبکہ ایف سی نے ہمیں باقی تینوں نوجوانوں کو حوالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس پہ تاحال عمل نہیں کیا گیا اور اب تک باقی تینوں نوجوان ایف سی کی تحویل میں ہیں۔

انھوں نے مذید کہا کہ گہرام نادل کے بھائی کے بقول گہرام کا ایف سی کے ایک مقامی انفارمر کے ساتھ ذاتی جھگڑا ہوا تھا جو ان کی گرفتاری کی وجہ بنا۔نصیر گچکی نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ گہرام نادل کے اہل خانہ کو پیسہ دینے کی آفر کی گئی جس کو اہل خانہ نے رد کرکے پیسہ وصول کرنے سے انکار کیا۔

آل. پارٹیز کے اجلاس میں اس بات پر متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ گھرام نادل کا حراستی قتل آئینی طورپر ایک غلط عمل ہے جس کے خلاف آل پارٹیز کیچ خاموش رہنے کی بجائے سخت احتجاج کرے گی۔اس سلسلے میں اتوار 20 جون کو تربت پریس کلب میں ایک اہم پریس کانفرنس کرکے واقعہ کی مذمت اور اس حوالے سے ہونے والے پیش رفت سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا جبکہ اس کے علاوہ احتجاجی ریلی اور مظاہروں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

اجلاس میں 21 جون کو آل پارٹیز کی طرف سے گھرام نادل کے اہل خانہ سے تعزیت کے لیے وفد کی شکل میں تمپ جانے کا فیصلہ کیا گیا۔جبکہ سانحہ تمپ سمیت بلوچستان میں فورسز کی جارحیت کے خلاف تمام وفاقی اور صوبائی جماعتوں کے سربراہان اور میڈیا ہاؤسز کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اس کے علاوہ سوشل میڈیا میں ٹویٹر پر مہم چلانے کے ساتھ سوشل میڈیا کے دیگر ٹولز کو استعمال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment