عراق میں ایرانی پراکسی ملیشیائیں امریکا کے لیے خطرہ قرار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں عراق میں ایرانی ایجنٹوں کی وجہ سے امریکا کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرے سے متعلق خبردار کیا گیا ہے۔

اخبار میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق یہ خطرہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے مسلح ڈرون سمیت مزید جدید ہتھیاروں کے استعمال سے بڑھ رہا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ عراق میں عسکریت پسندوں کا امریکی دفاعی نظام سے بچ کر ڈرون طیاروں کی مدد سے اہم امریکی اہداف پر حملہ شدت پسند ملیشیاؤں کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میک کینزی نے ان جدید ڈرونز سے لاحق خطرے سے متعلق متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج اس کا مقابلہ کرنے کی راہیں تلاش کرنے کے لئے تیزی سے کام کر رہی ہے۔

عراقی ملیشیا کی عراق میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کئی مہینوں سے دہرائی جا رہی ہیں ان میں سے سب سے تازہ ترین عین الاسد اڈے پر راکٹوں سیحملہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع، ایرانی حمایت یافتہ افراد اور دھڑوں کے خلاف کارروائی پر غور کر رہا ہے۔

دو باخبر ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پینٹاگان عراق میں ملیشیاؤں کے خلاف حملے شروع کرنے کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی منظوری حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

ایک ذرائع نے ”ڈیلی کالر” اخبار کو باور کرایا امریکی انتظامیہ عراق میں امریکیوں کے خلاف ملیشیا کی جارحیت کے وسیع پیمانے پر ردعمل پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

ایک اور ذریعے نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کونسل کے ذریعے وائٹ ہاؤس میں آپریشنز کے منصوبے اور دستیاب مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment