فائیو جی ٹیکنالوجی کی تابکاری سے انسانی صحت شدید متاثرہوگی، اداکارہ جوہی چاولہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بھارت کی معروف اداکارہ جوہی چاولہ کا دعویٰ ہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تابکاری سے انسانوں اور حیوانوں پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بالی ووڈ کی اداکارہ جوہی چاولہ نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کرائی ہے۔ اپنی درخواست کے مسودے میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مواصلات کی مختلف کمپنیوں نے فائیو جی نیٹ ورکس کی تنصیب سے متعلق جن منصوبوں کا اعلان کیا ہے، ان کے انسانوں پر سنگین اور ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے زمین کے ماحول کو بھی مستقل بنیادں پر نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

بھارتی حکومت نے حال ہی میں چند مواصلاتی کمپنیوں کو ملک میں فائیو جی موبائل نیٹ ورک کی آزمائش اور اس کے لیے بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم اداکارہ جوہی چاولہ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

انہوں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اگر فائیو جی کے مجوزہ منصوبوں پر عمل ہوتا ہے، تو اس سے انسان، چرند و پرند اور دیگر حشرات الارض کے ساتھ ساتھ متعدد اقسام کے پودے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جو موجودہ 4 جی نیٹ ورکس ہیں، ان کے مقابلے میں فائیو جی نیٹ ورک کی فریکوئنسی سے جو تابکاری پیدا ہو گی، وہ اس سے بھی دس سے سو گنا تک زیادہ ہو گی۔ اور اسی وجہ سے تمام شہری، بشمول نباتات اور حیوانات اس سے ہونے والے نقصان کی زد میں رہیں گے۔

دہلی ہائی کورٹ نے اس مقدمے کو دو رکنی بینچ کے حوالے کر دیا ہے جس پر جلد ہی سماعت متوقع ہے۔ اداکارہ جوہی چاولہ کافی دنوں سے ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ بھارت میں ماحولیات کے ماہر اس بات پر خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ فائیو جی کی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والی تابکاری بہت مضر ثابت ہو گی۔ جوہی چاولہ نے اسی تناظر میں یہ کیس دائر کیا۔

چاولہ کے وکیل دیپک کھوسلا نے یہ مقدمہ دائر کرایا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مضر نہیں ہے اور اگر ایسا ہے، تو حکومت عوامی سطح پر اس بات کی وضاحت پیش کرے کہ آخر کس طرح اس سے، ’انسانیت، نباتات و حیوانات کیسے محفوظ ہیں۔‘

بھارتی حکومت نے ابتدائی طور پر دہلی، ممبئی، کولکتہ، بینگلور، احمد آباد اور حیدر آباد جیسے شہروں میں فائیو جی نیٹ ورک کے تجربات کی اجازت دی ہے۔ اس پر تیزی سے کام جاری ہے اور اگر سب کچھ درست رہا، تو اسے جلد ہی نافذ کر دیا جائے گا۔

اداکارہ جوہی چاولہ کہتی ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہیں تاہم ان کے پاس، ’یہ یقین کرنے کی کافی وجوہات ہیں کہ یہ تابکاری لوگوں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ اور مضر ہے۔‘

بھارت میں جب ٹو جی فور جی نیٹ ورک متعارف کیا گیا تھا تو اس وقت بھی ماحولیات سے متعلق بہت سی تنظیموں نے سوالات اٹھائے تھے۔ خاص طور پر فور جی کی تابکاری کی وجہ سے جب دہلی جیسے بڑے شہروں میں گوریا جیسے چھوٹے پرندے ختم ہونے شروع ہو گئے، تو اس پر کافی بحث ہوئی تھی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment