ایران کے قدامت پسندوں کو یہ جان کر کچھ اطمینان ہوا ہے کہ ملک کی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی نے جون میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے خود کو بطور امیدوار پیش کر دیا ہے۔ سیاسی طور پر بھاری بھرکم شخصیت کے مالک رئیسی قدامت پسند کیمپ میں نمایاں حیثیت رکھتے اور لگتا ہے کہ انھیں اس کی بھرپور حمایت حاصل ہو جائے گی۔
ابراہیم رئیسی کو 82 سالہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا ممکنہ جانشین تصور کیا جاتا ہے، جنھوں نے انھیں 2019 میں ملک کی عدلیہ کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ انھیں سرکاری میڈیا اور ایران کے خصوصی فوجی دستے پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
اگرچہ ایران میں رائے عامہ کے جائزے مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں ہیں تاہم حالیہ جائزوں کے مطابق وہ صف اول کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
انھوں نے 2017 کے انتہائی منقسم انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا مگر اعتدال پسندوں اور اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ امیدوار اور موجودہ صدر حسن روحانی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔ سولہ ملین ووٹوں کے ساتھ ابراہیم رئیسی دوسرے نمبر پر رہے تھے جبکہ ان کے حریف نے 24 ملین ووٹ حاصل کیے تھے۔
اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔ حسن روحانی کو ووٹ دینے والے اعتدال اور اصلاح پسند ان سے نالاں ہیں۔ بہت سے لوگ ملک کی معاشی بدحالی کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں، جس میں امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کی وجہ سے مزید ابتری آئی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر کے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
تہران اور اہم عالمی طاقتیں اب اس معاہدے کو بحال کرنے کی غرض سے ویانا میں مذاکرات کر رہی ہیں۔ لیکن اگر جون کے انتخابات سے پہلے انھیں اس میں کامیابی مل بھی گئی تو انتخابی نتائج پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ معاہدے کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔
ایران کے پیچیدہ سیاسی نظام اور صدارتی انتخابات نے گزشتہ 25 برس کے دوران مبصرین کو کئی بار ورط? حیرت میں ڈالا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ اس بار قدامت پسندوں کے زیر اثر انتخابی ادارہ یعنی شوریٰ نگہبان کتنے امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت دے گا۔
مگر لگتا ہے کہ رئیسی کو اپنے مد مقابل امیدواروں، خاص کر اصلاح پسندوں اور روحانی حکومت سے وابستہ حریفوں پر فوقیت حاصل ہو گی۔
تاہم ایوان صدر تک کا سفر ان کے لیے آسان نہ ہو گا۔ انھیں آنے والے دنوں میں ہونے والے مباحثے اور مہم کے دوران بعض مضبوط حریفوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
سنہ 2013 اور 2017 کے انتخابات میں صدر روحانی کے اصلاح پسند حامی اب عوام کی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا امیدوار معاشی اور سماجی بحالی کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
اصلاح پسند اور اعتدال پسند جوہری معاہدے کے بڑے حامی تھے اور اسے روحانی حکومت کی سب سے اہم کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ مگر صدر ٹرمپ کے معاہدے سے نکلنے اور ایرانی معیشت کو اپاہج کر دینے والی پابندیوں کی وجہ سے صدر روحانی اور ان کے حامیوں کو زبردست دھچکا پہنچا۔
اصلاح پسند انتخابات سے قبل رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی کھو چکے ہیں۔ یہ اس وقت واضح ہو گیا تھا جب 2020 کے پارلیمانی انتخابات میں ان کے حمایت یافتہ امیدوار قدامت پسندوں سے شکست کھا گئے تھے۔ ان انتخاب میں سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد رائے دہندگان کی شرکت پہلی بار اتنی نچلی سطح پر آئی۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اصلاح پسند جماعتوں کا اتحاد، اصلاح طلبان، اول نائب صدر اسحاق جہانگیری، جنھوں نے خود کو بھی صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے، نامزد کرے گا۔
ایک زمانے میں روحانی کے حامیوں میں نہایت مقبول رہنے والے جہانگیری کی مقبولیت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ بہت سے لوگ انھیں ناقص معاشی فیصلوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کی وجہ سے ایران میں کرنسی کا بحران پیدا ہوا۔ اس لیے مباحث کے دوران وہ مخالفین کے لیے ایک آسان ہدف ثابت ہوں گے۔