حماس کے ساتھ جاری جنگ خاتمے کے قریب نہیں، اسرائیلی وزیر اعظم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

اسرائیلی وزیر اعظم بینامین نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حماس کے زیر زمین اہداف پر بمباری کر رہا ہے جس کے نتیجے میں حماس کے اسلحہ کے زیر زمین ذخائر کو تباہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے ساتھ محاذ آرائی ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ ہم حماس پر کاری ضربیں لگائیں گے اور ہم یہ کر رہے ہیں۔ نیتن یاھو نے مزید کہا کہ حماس کے رہنما بھاری قیمت ادا کریں گے۔ ہم اپنے شہروں اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

دوسری طرف اسرائیلی چیف آف اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی زیادہ تر میزائل صلاحیتیں ختم ہو گئیں۔

فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ گذشتہ شب 6 فضائی اڈوں سے لگ بھگ 160 طیاروں نے غزہ کی پٹی میں تقریبا 150 اہداف پر بمباری جس میں 450 میزائلوں اور بموں کا استعمال کیا گیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ان بمباری کا مقصد زیر زمین مفادات کو متاثر کرنا ہے۔ بمباری میں غزہ شہر کے آس پاس کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں زیرز مین اور میٹرو سروس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سرنگیں حماس کے لیے ایک تزویراتی خزانہ ہیں۔ ان پر بمباری کے نتائج دن کے اوقات میں واضح ہوں گے۔ انہوں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں کئی کلومیٹر سرنگوں کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

غزہ اور اسرائیل کے مابین تشدد کا سلسلہ آج چھٹے روز بھی جاری ہے، جس میں اب تک 137 فلسطینی شہید اور 900 زخمی ہو گئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment