اسرائیل اور فلسطین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے بعد دنیا کے مختلف ممالک ان سے پرامن رہنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی پولیس سے جھڑپوں میں پیر کو 300 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد غزہ سے اسرائیلی علاقے میں متعدد راکٹ داغے گئے، جبکہ پیر کی شب اسرائیل کے جوابی فضائی حملوں میں بچوں سمیت 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔
امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے اسرائیل اور فلطسین پر زور دیا ہے کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کشیدگی کو کم کریں۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہیں رکا تو وہ راکٹ حملے کر سکتی ہے۔
منگل کی صبح فلسطینی ہلالِ احمر کی جانب سے کہا گیا کہ مغربی کنارے اور یروشلم کے گرد اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں 700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
پیر کی شب اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ حماس نے غزہ سے ایشکیلون کے قصبے کو درجنوں راکٹوں سے نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے جواب میں جنگی طیاروں نے غزہ میں حماس کی ایک سرنگ کو نشانہ بنایا ہے۔
اس سے قبل پیر کی شام اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم نے غزہ میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔’
اسرائیلی حکام کے مطابق پیر کی شام راکٹ گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حماس کے تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
حماس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عزالدین قسام بریگیڈ کے ایک کمانڈر محمد عبداللہ فائد اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ حماس کو فوری طور پر راکٹ حملے بند کرنے چاہییں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام جانب سے تشدد کو روکنے کی ضرورت ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین پساکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو اس تشدد پر بہت تشویش ہے۔
اپنی ٹویٹ میں برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ راکٹ حملوں کو ’ضرور بند‘ ہونا چاہیے۔ انھوں نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کو روکنے کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس صورتحال پر پیر کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا تاہم اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں ایک سفارتی اہلکار نے کہا کہ اقوام متحدہ، مصر اور قطر جو کہ اکثر اوقات حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی کرتے ہیں وہ سب اس لڑائی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس سے پہلے اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ حماس نے ’سرخ لکیر عبور کر لی ہے اور یہ تنازع کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔‘
حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ داغنے کا سلسلہ پیر کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تازہ جھڑپوں میں پولیس کے ہاتھوں 300 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد شروع ہوا ہے۔
پیر کو جھڑپوں کے دوران اسرائیلی پولیس نے ایک بار پھر مظاہرین پر سٹن گرینیڈ داغے جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔
کشیدہ حالات کی وجہ سے اسرائیلی حکام نے سالانہ ’یروشلم ڈے فلیگ مارچ‘ بھی منسوخ کر دیا کیونکہ اس موقع پر مزید پرتشدد جھڑپوں کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔
یہ تقریب سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس دن عموماً پرچم لہراتے اور ملی نغمے گاتے سینکڑوں اسرائیلی نوجوان بیت المقدس کے قدیمی مسلم اکثریتی کا رخ کرتے ہیں جبکہ بہت سے فلسطینی اسے دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔
فلسطینی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ پیر کو جو 305 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے 228 کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا اور ان میں سے سات کی حالت نازک ہے۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے 21 اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔
بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک سابق عہدیدار اموس گیلڈ نے بھی مارچ کو منسوخ کرنے یا اس کا رخ تبدیل کرنے پر زور دیا اور انھوں نے آرمی ریڈیو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ‘بارود جل رہا ہے اور وہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔’
مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام مسجدِ اقصیٰ اور اس کا قریبی علاقہ رمضان کے مہینے میں پرتشدد جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سنہ 2017 کے بعد سے بدترین تشدد دیکھا گیا ہے۔ ہلال احمر کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب یہاں 300 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے تھے۔
پیر کو ہونے والی جھڑپیں اس تشدد کا تسلسل ہیں جو مشرقی بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں کئی دن سے جاری ہے۔ شیخ جراح میں آباد فلسطینی خاندانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے جبری بیدخلی کا سامنا ہے اور اسی وجہ سے علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔
اسرائیل کی عدالت عظمیٰ شیخ جراح میں ایک یہودی آباد کار تنظیم کے حق میں بیدخلی کے حکم کے خلاف 70 سے زیادہ افراد کی اپیل پر پیر کے روز سماعت کرنے والی تھی لیکن تازہ جھڑپ کی وجہ سے یہ سماعت بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اس صورتحال پر پیر کو اپنے اجلاس میں بحث کر رہی ہے۔