بلوچ اپنی لہو کہاں تلاشے،اپنی ہی زمین پر درندگی کا شکار ہے،حیات بلوچ،ملک ناز،کلثوم کی درد ناک شہادت کے بعد ایک اور درناک واقعے نے بلوچ قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا،حالانکہ ملٹری آپریشنز،اغوا،بلوچوں کا قتل عام کوئی نئی بات نہیں رہی، یہ سب قابض ریاست کی روز کا معمول ہیں۔مگر بروزبدھ21اپریل کوبلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں ایک اور دردناک واقع رپورٹ ہوا۔
پاکستانی فوجی اہلکاروں جن کو مقبوضہ بلوچستان میں پیرا ملٹری فورس فرنٹیئر کور(ایف سی) کہا جاتا ہے کے اہلکاروں نے ہوشاپ گریڈ بازار کے رہائشی 10سالہ مراد امیر کو اس وقت جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ ایف سی ناکہ کے قریب جنگل میں شہد اور لکڑیاں اکھٹے کرنے گیا تھا۔مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اہلکار نے اس کے دوسرے بھائی کو تشدد کا نشانہ بناکربھگا دیا تھا اور کم سن بچے کو تشدد کے بعد جبری طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایااور پھر اسے بے ہوشی کی حالت میں پھینک دیاگیا۔جہاں بعد ازاں مقامی لوگوں نے انہیں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا۔
اس واقع کے بعدعوام سراپا احتجاج بن گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں علاقہ مکینوں نے فورسز کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ہوشاپ میں سی پیک روٹ کو بلاک کر دیا۔
تربت میں ریلی میں متاثرہ بچے کی ماں سمیت خواتین و بچوں سمیت لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے نعرے بازی کی اور انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں لکھا تھا کہ پاکستان پھر وہی کہانی دہرا رہی ہے جو اس نے 1971 میں بنگلہ دیش میں دہرائی تھی۔مظاہرین سے متاثرہ بچے کی والدہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس طرح کی سزا دینے سے بہتر ہے کہ پاکستانی فوج ہمیں گولی مار کر قتل کرے، بموں سے اڑا دے لیکن ہم اپنی عزت سے دست بردار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ صرف میرے ساتھ نہیں کیا بلکہ یہ بد سلوکی پوری بلوچ قوم کے ساتھ کی گئی ہے۔
پاکستانی فورسز نے اپنے پارلیمانی ایجنٹوں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر بچے کی میڈیکل رپورٹ کو بد ل دیا اور فوجی اہلکار کو بری الذمہ قرار دیا،مگر خاندان کے لوگوں سمیت بلوچ عوام نے سرکاری رپورٹ کو مستر د کر دیا۔ اس واقعے کے خلاف مقبوضہ بلوچستان بھر میں احتجاج ہوئے، مگر حاکم وقت اور انکے بلوچ معاون کاروں نے غیریب بلوچ خاندان کی ایک بھی نہ سنی انصاف
تو دور کی بات بلکہ اوپر سے پاکستانی فوج نے متاثرہ بچے کے لواحقین پر دباؤ ڈالا کہ وہ واقعے کی رپورٹ درج نہ کریں اور معاملہ رفع دفع کریں۔
ڈاکٹروں کی جاری کردہ میڈیکل رپورٹ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے بھی تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سب کچھ طاقت اور بندوق کے زور پر کیا جارہا ہے۔ اس سارے معاملے میں نام نہاد بلوچ پارلیمانی پاکستانی فوج کے معاون کار رہے اور اس ظلم و جبر میں قابض کے ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔
بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں تاہم متاثرین کی جانب سے خوف اور بدنامی کے باعث ان پر بات نہیں کی گئی ہے۔ بقول بی این ایم کے پاکستانی فوج یہ درندوں کا ایک ہجوم ہے۔ یہ فوج گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں بلوچ نسل کشی سمیت انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
اس طرح کے درندانہ واقعات پربلوچ قوم سمیت انسانی حقو ق کے ادارے جتنی خاموش رہیں گے یہ درندہ فوج اپنی درندگیوں میں مزیداضافہ کرتا رہے گا اس واقعہ پر بلوچ کو ایک قوم کی حیثیت سے یکمشت ہوکر آواز اٹھانا اور پاکستان کی مکروہ شکل کو سامنے لانا چاہیئے۔
اسلام کی رکھوالی کے دعویدار ملک کی فوج جو ر ماہ رمضان جیسے مبارک مہینے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتی ہے ایسے واقعات منظم منصوبے کے تحت کئے جارہے ہیں اور جس طرح بنگلادیش میں خواتین اور بچوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بالکل وہی سب کچھ بلوچستان میں دہرایا جارہا ہے۔
جہاں ریاست طاقت کے بل بوتے پر اپنی قبضہ گیر پالیسیوں کو دوام بخش رہی ہے وہیں اِس طرح کے واقعات کا رونما ہونا انھی قبضہ گیر پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ ایسے میں سب سے پہلے ایسے مظالم کو اسلام کے دیگر ممالک کے سامنے اجاگر کرنا چائیے کہ خود کو اسلامی فوج کہنے والی پاکستانی فوج،اسکے خفیہ ادارے کس طرح کمسن بچوں کو جنسی زیادتی کے ساتھ اغوا کر کے سالوں سال سیکس سلیب کے طور پر استعمال کر رہے ہیں،اور مقبوضہ بلوچستان میں دوران آپریشن کس طرح قران شریف کی پامالی کر کے اسے نہ صرف پاؤں تلے روندھا جاتا ہے بلکہ درجنوں ایسی مثالیں ہیں کہ اس اسلامی فوج نے مقدس کتاب کو نذر آتش کیا ہے۔
ریاستی مظالم کے خلاف ایک منظم پالیسی کے تحت اس خطے کے ممالک سمیت عرب ممالک کو خاص کر قابض ریاستی جنگی جرائم اور اسلام کے نام پر ریاستی بدمعاشیوں کو سامنے لانا چائیے تاکہ پاکستان کا مکرودہ چہرہ دیگر اقوام کے سامنے لایا جا سکے۔