جرمنی میں انتہا پسندوں کے پُر تشدد ونسل پرستانہ جرائم میں اضافہ، نیا سالانہ ریکارڈ جاری

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

جرمنی میں سیاسی وجوہات کی بنا پر رونما ہونے والے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے پرتشدد اور نسل پرستانہ جرائم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات جرمن وزیر داخلہ زیہوفر نے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتائی۔

وفاقی جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے سیاسی وجوہات کی بنا پر جرائم کے ارتکاب سے متعلق تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے منگل کے روز بتایا کہ 2020ء میں ملک میں ایسے جرائم کی مجموعی تعداد 2001ء سے لے کر آج تک کی اپنی سب سے اونچی سالانہ سطح پر رہی۔

ہورسٹ زیہوفر نے کہا کہ ملک میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی طرف سے جرائم کے ارتکاب میں اضافہ تشویش ناک ہے اور حکومت ایسے جرائم کے سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے ملکی اداروں کی مدد سے اپنی بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اس حوالے سے گزشتہ برس فروری میں پیش آنے والے اس سانحے کی مثال بھی دی تھی، جس میں ہاناؤ کے شہر میں تارکین وطن کے سماجی پس منظر سے تعلق رکھنے والے گیارہ نوجوان افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔

وزیر داخلہ زیہوفر نے بتایا کہ ملک میں سیاسی عوامل یا وجوہات کے سبب پرتشدد جرائم کے ارتکاب میں واضح اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور 2020ء میں ایسے جرائم کی شرح میں 2019ء کے مقابلے میں 8.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ہورسٹ زیہوفر نے، جن کے ساتھ میڈیا کو ایسے جرائم کے اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے جرائم کی تحقیقات کرنے والے وفاقی جرمن ادارے بی کے اے کے سربراہ ہَیلگر میُونش بھی موجود تھے، کہا کہ جرمنی میں زیادہ تر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ایسے جرائم کی تعداد مجموعی جرائم کا صرف ایک فیصد بنتی ہے، ”اس کے باوجود یہ ڈیٹا اس وجہ سے بہت تشویش ناک ہے کیونکہ یہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔“

جرمن وزیر داخلہ کے مطابق گزشتہ برس ملک میں دائیں باز وکی انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے جتنے بھی جرائم کا ارتکاب کیا گیا، وہ 2001ء سے اب تک ایسے جرائم کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرمن پولیس نے سیاسی وجوہات کی وجہ سے جرائم کے ارتکاب کا علیحدہ ریکارڈ رکھنا 20 سال قبل 2001ء میں شروع کیا تھا اور یہ شرح تب سے آج تک کی سب سے اونچی سالانہ شرح ہے۔

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ملک میں معمولی نوعیت سے لے کر مہلک نوعیت کے مجموعی طور پر تیئیس ہزار چونسٹھ جرائم ایسے تھے، جن کا ارتکاب دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے کیا۔ یہ شرح 2019ء کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق تازہ ترین ا عداد و شمار بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جو وہ وزیر داخلہ کے طور پر پہلے دن سے ہی کہتے آئے ہی، ”دائیں بازو کی انتہا پسندی ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔“

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ملک میں جتنے بھی پرتشدد اور نسل پرستانہ حملے رپورٹ ہوئے، ان کی اکثریت کا ارتکاب ایسے افراد نے کیا، جن کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسندانہ عناصر سے تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق ملک میں سامیت دشمنی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو دیگر جرائم کی طرح ایک قابل مذمت پیش رفت ہے۔

دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے جرائم میں صرف کسی پر جسمانی حملہ کرنا ہی شامل نہیں ہوتا، بلکہ کسی کے بھی خلاف زبانی دھمکی، نسل پرستانہ پروپیگنڈا یا نفرت انگیز بات کہنا بھی جرائم کے طور پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment