جب تک فوج کا کردار رہیگا پاکستان میں الیکشن متنازع رہینگے، بلاول بھٹو

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شفاف انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں اور اگر انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردار ہے تو پھر ہم چاہے جتنی بھی قانون سازی کر لیں، انتخابات متنازع رہیں گے۔

کراچی میں بے نظیر مزدور کارڈ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مزدور تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہوں یا پھر گھروں میں کام کررہے ہوں، اگر آپ مزدور کارڈ میں رجسٹر ہوں گے تو ان کو بے نظیر مزدور کارڈ ملے گا اور وہ انہی سہولیات سے استفادہ کر سکیں گے جو اب تک صنعتی مزدوروں تک محدود رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی مسلسل انتخابی اصلاحات پر کام کرتی آ رہی ہے، ہم نہیں چاہتے کہ 2018 اور اس سے قبل جو دھاندلی کی گئی، ایسا دوبارہ ہو اور اس کے لیے اصلاحات کرنی پڑیں گی جس کے لیے ہم تیار ہیں جبکہ الیکشن کمیشن اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت کے مؤقف کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا اور یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ دھاندلی کرنے والے کے ساتھ بیٹھ کر دھاندلی کو روکیں، اس سلسلے میں قانون سازی اور اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی روکنے کے لیے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے اور اگر انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کا فعال کردار ہے تو پھر ہم چاہے جتنی بھی قانون سازی کر لیں، انتخابات متنازع رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اسٹیشلشمنٹ کو انتخابات سے دور رکھ سکتے ہیں، ان کا رویہ غیرجانبدار رہتا ہے تو پھر انتخابی اصلاحات کا بھی فائدہ ہو گا اور الیکشن میں دھاندلی بھی کم ہو گی۔

بلاول نے کہا کہ آپ سب نے دیکھا کہ این اے-249 کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی فعال کردار نہیں رہا تو ہم یہی چاہیں گے کہ اس اتفاق رائے کے ساتھ اصلاحات ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست اور انتخابی اصلاحات میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اگر انتخابات پر کوئی اعتراض ہے تو آپ کے پاس فورم دستیاب ہے، یہ ان کا حق ہے کہ اگر ان کے پاس کسی گڑبڑ کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے ضرور امید رکھیں اور فوج سے اپیل نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ایک سیٹ ہار کر فوج سے انتخابی عمل میں مداخلت کی اپیل نہ کرے، ہم سمجھتے ہیں کہ اگر فوج کا الیکشن میں کردار ہو تو یہ انتخابی عمل کے لیے نقصان دہ ہے جیسے کہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان کے ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر فوج تعینات تھی اور پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ فوج اسی انتخابات میں تعینات کی گئی تھی۔

بلاول نے کہا کہ 2008 اور 2013 میں جب دہشت گردی عروج پر تھی تو اس وقت فوج تعینات نہیں کی گئی تھی اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے ناصرف الیکشن متنازع ہوتے ہیں بلکہ پاکستان کی فوج بھی بلاوجہ متنازع ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے فوج سے کی گئی اپیل کے مطالبے کا ہرگز ساتھ نہیں دیتے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے غیر ذمے دارانہ مطالبہ ہے کہ پولنگ باکسز کو فوج کی تحویل میں دیا جائے، ہم اس مطالبے کی حمایت نہیں کر سکتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کا واقعہ جس دن پیش آیا، اس دن ہمارے انتخابات چل رہے تھے، وہاں کام کو روکا جا چکا ہے اور مجھے اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی رپورٹ کا انتظار ہے۔

Share This Article
Leave a Comment