عرب امارات شہزادی لطیفہ کے زندہ ہونے کے ٹھوس ثبوت فراہم کرے،اقوام متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے متحدہ عرب امارات سے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی شہزادی لطیفہ المکتوم کے زندہ ہونے سے متعلق ‘ٹھوس ‘ ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

خیال رہے کہ فروری میں جاری ہونے والی ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کے والد نے انہیں دبئی میں اس وقت سے یرغمال بنایا ہوا ہے جب انہوں نے سال 2018 میں فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں شیخہ لطیفہ نے کہا تھا کہ انہیں خطرہ ہے کہ انہیں مار دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ کا شہزادی لطیفہ کی قید کا معاملہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اٹھانے کا اعلان

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جیینیوا سے جاری کردہ بیان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ شیخہ لطیفہ کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شہزادی کے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔
ان کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد قوام متحدہ نے شہزادی لطیفہ کو والد کی جانب سے جبری طور پر قید کرنے کا معاملہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔

اور اب اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ انہیں شیخہ لطیفہ کے معاملے میں مزید معلومات کی ضرورت ہے۔

20 فروری کو جاری کیے گئے بیان میں اقوام متحدہ نے ‘کسی تاخیر کے بغیر’ یو اے ای کی حکومت سے شیخہ لطیفہ کے متعلق ‘ واضح اور ٹھوس معلومات ‘ دوبارہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین نے کہا ہے کہ’شیخہ لطیفہ کو جن حالات میں رکھا گیا ان کی آزادانہ تصدیق کروائی جائے اور انہیں فوری طورپر رہا کیا جائے’۔

انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ ‘متحدہ عرب امارات کے حکام کے جاری کردہ بیان میں محض یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ ‘گھر میں ان (شہزادی لطیفہ) کا کیا خیال رکھا جارہا ہے اور یہ اس مرحلے پر ناکافی ہے’۔

مزید کہا گیا کہ ‘فروری میں فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد سے ہمیں ان کے حوالے سے خطرات ہیں، جس میں شیخہ لطیفہ نے اپنی مرضی کے خلاف اپنی آزادی سے محروم ہونے سے متعلق بتایا تھا اور ان کے حالات سے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے سے متعلق باضابطہ درخواست کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس معلومات نہیں دی گئیں’۔

برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ان ویڈیوز کے بعد سے ہی اقوام متحدہ کے ماہرین نے اماراتی حکومت سے ان کی ‘مبینہ جبری گمشدی اور قیدِ تنہائی’ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس مسلسل حراست سے شہزادی لطیفہ پر جسمانی اور نفسیاتی نقصان دہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو ظالمانہ ، غیر انسانی یا مایوس کن سلوک کے زمرے میں آسکتے ہیں’۔

قبل ازیں مشیل باشیلے کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہزادی لطیفہ سے متعلق بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے تناظر میں اماراتی حکومت سے ان کے زندہ ہونے کے ثبوت مانگے تھے۔

جس پر متحدہ عرب امارات نے 19 فروری کو کہا تھا کہ شیخہ لطیفہ کا خیال گھر پر رکھا جارہا ہے۔

تاہم اس حوالے سے جب رائٹرز نے اماراتی حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

رواں ماہ کے اوائل میں مشیل باشیلے کے دفتر نے کہا تھا کہ انہوں نے شیخہ لطیفہ کے زندہ ہونے سے متعلق جو ثبوت یو اے ای سے مانگے تھے، وہ انہیں موصول نہیں ہوئے۔

اس وقت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے کہا تھا کہ یو این کے سینئر حکام نے شہزادی لطیفہ کے معاملے پر جینیوا میں اماراتی سفیر سے ملاقات طے کی ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ شیخہ لطیفہ نے 2 مرتبہ دبئی سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی اور وہ دونوں مرتبہ ہی ناکام ہوئیں انہٰیں 2002 اور 2018 میں پکڑ کر دبئی واپس لایا گیا تھا۔

انہیں پہلی مرتبہ فرار ہونے کی کوشش سے قبل اپنے والد کی ہدایات پر 3 سال تک کے لیے قید کیا گیا تھا، مارچ 2018 میں ان کی دوسری قید عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھی۔

شیخہ لطیفہ کی ایک دوست نے بتایا تھا کہ کمانڈوز نے انہیں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ بحرہند میں سمندری راستے سے فرار ہونے کی کوشش کررہی تھیں، کمانڈوز نے انہیں کشتی سے گھسٹ کر باہر نکالا، تشدد کیا جبکہ وہ چیختی رہیں تاہم کمانڈوز انہیں ہراساں کرتے رہے۔

Share This Article
Leave a Comment