انڈونیشیا میں طوفانی بارش و سیلاب سے 50 سے زائد افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

مشرقی انڈونیشیا اور اس کے ہمسایہ ملک مشرقی تیمور میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

طوفانی بارش کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے انڈونیشیا کے فلورس جزیرے سے لے کر مشرقی تیمور تک پھیلے جزیروں پر تباہی مچائی۔

طغیانی اور اس کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ڈیم اوور فلو ہوگئے جس کی وجہ سے ہزاروں مکانات ڈوب گئے اور اس کے نتیجے میں پھنسے ہوئے متاثرین تک پہنچنے میں امدادی ورکرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

انڈونیشین ڈزاسٹر مِٹیگیشن ایجنسی کے ترجمان رادتیا جاتی نے صحافیوں کے بتایا کہ ‘چار ذیلی اضلاع اور 7 دیہات متاثر ہوئے ہیں، جائے وقوع پر موجود اپنی ٹیم کے ساتھ اعداد و شمار کی تصدیق کرنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ 41 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم 27 افراد تاحال لاپتہ ہیں اور نو افراد زخمی ہیں’۔

مشرقی فلورس میونسپلٹی میں کچے مکانات، پل اور سڑکیں ڈوب گئیں جہاں بارش اور تیز لہروں کی وجہ سے امدادی کارکن دور دراز اور شدید متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ہمسایہ ملک مشرقی تیمور کے دارالحکومت دلی میں سیلاب سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔

سکریٹری برائے برائے شہری تحفظ جوقم جوز گزماو¿ دوز ریس مارٹنز نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم اب تک قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں کو تلاش کر رہے ہیں’۔

حکام نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

مشرقی فلورس کے ڈپٹی ریجنٹ اگسٹینس پیونگ بولی نے اندازہ لگایا کہ ان کے علاقے میں 60 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان میں سے 55 افرادد لمنیلے گاو¿ں کے تھے، یہاں زیادہ لوگ ہلاک اس لیے ہوئے کیونکہ گاو¿ں کو سیلاب کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ نے بھی متاثر کیا’۔

زخمی متاثرین کو ہمسایہ دیہاتوں، جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے اور مقامی ہسپتال اور صحت کی سہولیات میں منتقل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنوری کے مہینے میں انڈونیشیا کے مغربی جاوا میں سمیڈانگ میں طوفانی سیلاب سے 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

Share This Article
Leave a Comment