سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کوفائدہ مند قرار دیدیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

سعودی وزیر خارجہ نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کو بے پناہ فوائد کا حامل قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی مملکت کے ساتھ ایسے کسی سمجھوتے کا انحصار اسرائیل اور فلسطینی امن عمل پر ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے سارے خطے کو بے پناہ فائدہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کی بھی وضاحت کی کہ سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بحالی براہ راست اسرائیلی فلسطینی امن عمل کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار امریکی نیوز چینل سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ یہ انٹرویو جمعرات کی رات نشر کیا گیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کم از کم تین عرب ریاستوں اور ایک افریقی مسلمان ملک نے یہودی ریاست کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی بحالی کے سمجھوتے کیے تھے۔ اس عمل کو ‘ابراہم ایکارڈ‘ یا معاہدہ ابراہیمی کا نام دیا گیا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والی عرب ریاستوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور افریقی ملک سوڈان شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اسی سلسلے میں ریاست ع±مان کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔

امریکی نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی وزیر خارجہ کا یہ کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے خطے میں مثبت تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اقتصادی طور پر بھی بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان تعلقات کو یقینی طور پر سکیورٹی کے تناظر میں بھی مفید خیال کیا جا سکتا ہے۔

خلیج فارس کے عرب خطے میں سعودی عرب کو ایک ‘پاور ہاو¿س‘ کا درجہ حاصل ہے۔ وہ مسلسل اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی کو فلسطینی تنازعے کے حل کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ عرب ریاستوں کی اسرائیل کے ساتھ قربت اور نزدیک ہونے کی بڑی وجہ ایران اور اس کا خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی خواہش ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سعودی ریاست انتہائی خفیہ انداز میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایسی رپورٹیں بھی سامنے آچکی ہیں، جن میں بیان کیا گیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو گزشتہ برس نومبر میں سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کا ایک دور مکمل کر چکے ہیں۔ سعودی حکومت نے ایسی بات چیت کی تردید کی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment