گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن کے تحت مستقلی کے منتظر اساتذہ نے بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجاً دھرنا دے دیا۔
حکومت کی یقین دہانی کے باوجود احتجاجی مظاہرین کا دھرنا ختم کرنے سے انکار جبکہ احتجاجی اساتذہ کے احتجاج کے حوالے سے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن اراکین میں نوک جھونک بھی ہوئی اور اپوزیشن اراکین نے حکومت کی جانب سے مظاہرین کو مطالبات تسلیم ہونے کی یقین دہانی کرانے سے انکارکردیا۔
پیر کو کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے والی جی پی ای منصوبے کی خواتین اساتذہ نے مطالبات تسلیم ہونے پر احتجاجی ریلی نکالی اور بلوچستان اسمبلی کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی جس پر خواتین پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تاہم مظاہرین پولیس اہلکاروں اور راستے میں موجود رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اسمبلی تک پہنچ گئی اور اسمبلی کے مین گیٹ پر دھرنے دیا۔
اس موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم بعدازاں پولیس نے مظاہرین کو احتجاج کرنے کی غیر اعلانیہ اجازت دے دی۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو اجلاس کی صدارت کرنے والے اصغرخان اچکزئی نے وزراءکو اسمبلی کے باہر احتجاج پر بیٹھے اساتذہ کرام سے بات چیت کرنے کے لئے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل پارٹنرشپ، سی اینڈ ڈبلیو کے ملازمین احتجاج کررہے ہیں وزرا جا کر ان سے بات کریں اورمسئلے کا ممکنہ حل نکالیں ۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ پچیس تاریخ کو کابینہ کا جو اجلاس ہوگا اس میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس موقع پر انجینئر زمرک خان اچکزئی، میر ظہور بلیدی اور ضیا لانگو پر مشتمل حکومتی کمیٹی نے احتجاج پر بیٹھے اساتذہ سے مذاکرات کئے ۔
بعدازاں انجینئر زمرک خان اچکزئی نے ایوان کو بتایا کہ ہم نے آدھا گھنٹہ مظاہرین سے بات چیت کی اور انہیں ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات برحق ہیں ان کے مسائل پر بات ہوئی وہ یہ چاہتے تھے کہ آپ ابھی سائن کرکے دیں ہم نے آگاہ کیا کہ ان کی مستقلی کا ایک قانونی طریقہ کار ہے جس کے تحت ہی ہم انہیں مستقل کریں گے یہ کابینہ کے ذریعے ہوگا اگلے اجلاس میں ہم اس نکتے کو ایجنڈے کا حصہ بنائیں گے۔
ہم نے ان سے درخواست کی کہ آپ احتجاج ختم کردیں کابینہ کا اجلاس پچیس تاریخ کو ہوگا ہم یہ مسئلہ حل کرلیں گے مگر احتجاجی اساتذہ نے ہماری بات نہیں مانی۔
جس پر اصغرخان اچکزئی نے اپوزیشن اراکین کو ہدایت کی کہ اپوزیشن اراکین جا کر ان سے بات کریں کہ وزراءنے انہیں جو یقین دہانی کرائی ہے اس پر عملدرآمد ہوگا اور کابینہ کے اگلے اجلاس میں یہ معاملہ حل کرلیا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر ملک سکندرخان ایڈووکیٹ، ثناءبلوچ، اختر حسین لانگو نے کہا کہ اپوزیشن کو احتجاجی اساتذہ کو یقین دہانی کرانے میں کسی قسم کی قباحت محسوس نہیں ہوگی لیکن حکومت نے جتنی بار بھی یقین دہانی کرائی ہے انہوں نے اپنی بات سے روگردانی کی وزیراعلیٰ کے پاس ایگزیکٹیو اختیارات ہیں وہ انہیں استعمال کرتے ہوئے جی پی ای اساتذہ کے مطالبات کو کابینہ کی منظوری سے مشروط طور پر تسلیم کرلیں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے بصورت دیگر اپوزیشن ارکان احتجاجی اساتذہ کو کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائیں گے۔
اس موقع پر وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق حکومت کا مطلب وزیراعلیٰ نہیں بلکہ کابینہ ہے جس کی وجہ سے اب وزیراعلیٰ بہت سے اختیارات بروئے کار نہیں لاسکتے۔ہم ایوان میں یقین دہانی کرارہے ہیں کہ مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ کابینہ اجلاس کب ہوگا جنہوں نے نو ماہ تک احتجاج کیا ہے وہ کچھ دن اور صبر کرلیں بعدازاں معاملہ بے نتیجہ رہا اور جی پی ای اساتذہ نے اسمبلی کے باہر اپنا احتجاج رات گئے تک جاری رکھا۔