بھارت کیساتھ دفاعی تعلقات امریکی انتظامیہ کی ترجیحات کا حصہ ہیں، لائڈ آسٹن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے دورہ بھارت کے موقع پر چین کے تناظر میں بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات کو بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس فیصلے کا خطے میں طاقت کے توازن پر اثر پڑے گا اور آنے والوں دنوں میں اس پر بیجنگ اور اسلام آباد کا رد عمل بہت اہم ہو گا۔

امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے بھارت کے ساتھ دفاعی تعلقات موجودہ امریکی انتظامیہ کی ترجیحات کا حصہ ہیں۔ آسٹن کے بقول انڈو پیسیفک خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کو لاحق چیلنجز کے تناظر میں دونوں اتحادی ممالک کے دفاعی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان دیتے ہوئے پینٹاگون کے سربراہ آسٹن نے براہ راست کسی ملک کا نام تو نا لیا تاہم ماہرین کے مطابق ان کا اشارہ چین کی طرف تھا۔ انہوں نے آج ہفتے کو اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد یہ بیان نئی دہلی میں دیا۔

امریکی وزیر دفاع آسٹن انیس تا اکیس مارچ بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ آج ہفتے کو وہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بھی ملاقات کر رہے ہیں۔ قبل ازیں کل جمعے کو اپنے دورے کے آغاز پر آسٹن نے وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال سے ملاقاتیں کی تھیں، جن کے بعد انہوں نے نئی دہلی اور واشنٹگن کے مابین بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو سراہا تھا۔ ان کے اس دورے کا مقصد خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بات چیت کرنا اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی طے کرنا ہے۔

لائڈ آسٹن جاپان اور جنوبی کوریا کے دوروں کے بعد گزشتہ روز نئی دہلی پہنچے تھے۔ انہوں نے ‘ک±وآڈ‘ نامی گروپ کے اولین اجلاس میں بھی شرکت کی، جو آسٹریلیا، جاپان، امریکا اور بھارت پر مشتمل ہے۔ ‘ک±وآڈ‘ کو چین کی مخالفت میں ہم خیال ممالک کا گروپ تصور کیا جاتا ہے۔

پینٹاگون کے سربراہ کے اس دورے کے موقع پر اگرچہ دفاعی تعاون بڑھانے کی بات کی گئی ہے تاہم اس ضمن میں کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ جنگی ساز و سامان، ضروریات اور فوری عسکری کارروائی کرنے کے قابل بننے کے لیے درکار ٹیکنالوجی کے بارے میں آسٹن کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ فریقین نے اس پر اتفاق کیا کہ تعاون کے کئی مواقع اب بھی موجود ہیں۔

دونوں اتحادی ملکوں کے تعلقات میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی خاصی بہتری دیکھی گئی تھی۔ سن 2008 سے لے کر اب تک بھارت بیس بلین ڈالر سے زائد مالیت کا امریکی اسلحہ خرید چکا ہے۔ اس وقت بھی تین بلین ڈالر مالیت کی تیس اسلحہ بردار ڈرونز کی ایک تجارتی ڈیل زیر غور ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے اس دورے اور بالخصوص عسکری سطح پر تعاون بڑھانے کی خبروں کا خطے پر کیا اثر پڑے گا، یہ دیکھنا اہم ہو گا۔ حالیہ کچھ دنوں سے روایتی حریف ہمسایہ ملکوں پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات میں بہتری کے کچھ آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں اسلام آباد کا رد عمل بہت اہم ہو گا۔

دوسری جانب چین بظاہر آسٹن کے اس دورے کی مرکزی وجہ ہے اور اسی لیے بیجنگ کا رد عمل بھی غیر اہم نہیں ہو گا۔

Share This Article
Leave a Comment