پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج بروزجمعرات 18مارچ کوبلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے انہیں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کی فہرست فراہم کی گئی۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کیلئے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصرا اللہ بلوچ کی سربراہی میں لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ اور لاپتہ شبیر بلوچ کی ہمشیرہ سیما بلوچ نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
اس ملاقات میں وفاقی وزیر انسانی حقوق شرین مزاری اور زبیدہ جلال بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد مسئلے پر سنجیدہ ہے، اور ایمانداری سے اس مسئلے پر کام کرینگے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو بلا کر لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرونگا اور لاپتہ افراد کے بازیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔
بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ان کے لواحقین کی طرف سے رواں سال کے فروری میں اسلام آباد میں ایک احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا اور 10 روز سے ڈی چوک پر احتجاج کرنے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے وزیر اعظم عمران خان سے مارچ کے مہینے میں ملاقات کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا تھا۔
آج ہونے والے ملاقات کے حوالے سے سمی دین نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر کہا کہ ڈی چوک پر دھرنے کو ختم کرانے کے وقت حکومت نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ جب ہماری ملاقات وزیراعظم عمران خان سے ہوگی تو ہمارے لاپتہ پیاروں کے بارے میں ہمیں معلومات دی جائیگی۔ لیکن حیرانگی کی بات ہے وزیراعظم کو ان کے نمائندوں نے لاپتہ افراد کی فہرست تب نہیں بلکہ آج حوالے کیا۔
اس حوالے سے انہوں نے مزید لکھا کہ گذشتہ کئی دنوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین مسلسل ہم سے رابطہ کرکے بے صبری سے ہم سے ملاقات کے بارے میں پوچھتے رہے ہیں اور میں ان کو تسلیاں دیتی رہی ہوں لیکن سمجھ نہیں آرہا کہ اب انہیں کیا جواب دوں کیونکہ وعدے اور یقین دہانیوں کے علاوہ ہمیں وزیراعظم ہائوس سے اور کچھ معلومات نہیں دی گئی۔
وفد میں شامل لاپتہ طالبعلم شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ نے کہا کہ میں، سمّی بشمولِ چئیرمین نصراللہ جب آج وزیر اعظم کے پاس تمام مائوں کی امیدیں، بہنوں کے ارمان اور بیویوں کے ادھورے خواب لے کر پہنچے تو بہت تکلیف ہوئی یہ جان کر کہ انہوں نے بھی ہمیں ایک آسرے، ایک امید کے علاوہ کچھ نہ دیا، البتہ ہم ایک بار پھر لاپتہ افراد کی فہرست دے کر آ گئے۔