بی این ایم جرمنی زون کی جانب سے جبری گمشدگی کے شکارافراد کے لواحقین کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پاکستان کے ہاتھوں جبری گمشدہ بلوچ اسیران کے سراپااحتجاج لواحقین کے ساتھ یکجہتی کیلئے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس میں جرمنی میں مقیم بلوچوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج کے دوران لاپتہ بلوچوں کے بارے میں پمفلٹ تقسیم کی گئی اور مقامی لوگوں کو آگاہی دی گئی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کی اور تقاریر کیں۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی زون کے جنرل سیکریٹری اصغر علی بلوچ نے کہا کہ انیس سو اڑتالیس سے لیکر آج تک پاکستان بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے۔ ان جرائم میں ایک لوگوں کی جبری گمشدگی ہے۔ قبضہ سے لیکر آج تک پاکستان نے ہزاروں بلوچوں کو تاریک زندانوں میں قید کی ہے اور ان کے بارے میں کسی کو معلومات نہیں دی جا رہی ہیں۔ پاکستان عالمی قوانین کے ساتھ اپنے قوانین کی بھی پامالی کر رہی ہے کیونکہ پاکستان کی قانون کے مطابق کسی کو بھی پکڑ کر اڑتالیس گھنٹے میں عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہے لیکن ہزاروں لاپتہ بلوچوں میں سے کسی کو بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔ جیسے کہ ڈاکٹردین محمد بلوچ، رمضان بلوچ اور دوسرے ہزاروں بلوچ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک غیر جمہوری اور قابض ملک ہے۔ ہم پر قبضہ سے لیکر آج تک ظلم و جبر کر رہی ہے لیکن نام نہاد تہذیب یافتہ ممالک کو ان چیزوں کا پتہ نہیں ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ پاکستان کے معاشی اور عسکری لین دین میں مصروف ہیں، جیسے کہ یورپی یونین یا جرمنی وغیرہ۔
جرمنی زون کے صدر حمل بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم نے ہمیشہ ظالموں کا راستہ روک کر مزاحمت کی ہے، چاہے وہ نوشروان ہو یا سلجوق، لیکن بلوچ نے کسی کی بالادستی قبول نہیں کی ہے، ان کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ آج بلوچ قوم اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ آج پاکستان نے ہزاروں لوگوں کو لاپتہ کیا ہے اور ہزاروں افرادکی مسخ لاشیں پھینکی ہیں۔ آج بچوں کو پتہ نہیں کہ ان کے والد کہاں ہیں؟ ماؤں کو معلوم نہیں کہ ان کے بچے کہاں ہیں؟ عورتوں کو معلوم نہیں کہ بیوہ ہوچکی ہیں یا نہیں؟ لیکن آج نام نہاد فیمنسٹ بھی خاموش ہیں۔ بلوچ عورتیں جو گیارہ، بارہ سالوں سے سڑکوں پر بیٹھی ہیں وہ انہیں نظر نہیں آتی ہیں۔ کہاں ہیں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے دعویدار؟ سب ایسے خاموش ہیں جیسے بلوچ کوئی انسان نہیں ہیں۔
مظاہرین سے خطاب میں شہر حسن بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم پاکستانی دہشت گردی کے سامنے اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگا اور نہ ہی ہم اس وجہ سے دستبردار ہوجائیں گے کہ دنیا ہماری مدد نہیں کر رہی بلکہ پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔
بی آر پی کے فواز بلوچ نے کہا کہ پاکستان بے شک ظلم کرے، ہزاروں لاپتہ کرے لیکن ہم اپنی جدودجہد سے دستبردار نہیں ہونگے۔
عبدالحمید بلوچ نے کہا کہ پاکستان وہی ملک ہے جو اپنی ہی قوانین کی پابندی نہیں کرتا۔ اگر وہ پابندی کرتا تو لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرتا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی زون کے نائب صدر دوستین بلوچ نے کہا کہ لوگوں کو لاپتہ کرنا نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کئی سالوں سے بلوچوں کو لاپتہ کر رہی ہے۔ انیس سو چہتر میں اسد مینگل اور احمد شاہ کرد کو لاپتہ کیا گیا۔ اسی طرح کئی بلوچ خواتین کو لاپتہ کیا گیا۔ آج بلوچ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ ہیں۔ بلوچستان میں اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ توتک کی اجتماعی قبروں سے ایک سو انسٹھ لاشیں برامد ہوئیں۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ کوئی بلوچ جبری گمشدگی کاشکار نہ ہو رہا ہو۔ لیکن دنیا کی ذمہ دار اداروں اور ملکوں نے اس جانب اپنی آنکھیں بند رکھی ہیں۔ یہی وجہ سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے