عالمی ادارے فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق اب تک کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو ادارے کی جانب سے تجویز کردہ 27 میں سے 3 سفارشات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے اس لیے اسے جون 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے جس کے بعد اس پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا تھا۔
یہ فیصلہ منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے عالمی نگراں ادارے ایف اے ٹی ایف کے تین روزہ اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔
اس اجلاس میں پاکستانی حکومت کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف اقدامات کے تناظر میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو شدت پسندوں کی مالی امداد کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
کورونا وبا کے باعث اس کا انعقاد ورچوئلی یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہا ہے۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جن تین شعبوں کی نشاندہی کی گئی وہ یہ ہیں:
1) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرے کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
2) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں ہوں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔
3) اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔
ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 22 سے 25 فروری تک جاری رہا جس کے اختتام پر یہ اعلان کیا گیا ہے۔ اجلاس میں 205 رکن مملک اور بین الاقوامی تنظیموں کے 205 مندوبین نے آن لائن شرکت کی۔
گذشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں بھی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا گیا تھا۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ماضی میں ادارے کی جانب سے پاکستان کو تجویز کردہ 27 میں سے 6 سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو فروری 2021 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے۔
دنیا بھر میں منی لانڈرنگ اور شدت پسندوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں اور ان سفارشات پر عملدرآمد کو مدنظر رکھتے ہوئے رکن ممالک کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔
2018 میں جب پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا تو پاکستان کے مالی نظام اور قوانین کو ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 13 سفارشات کے مطابق پایا گیا جبکہ باقی 27 سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے لیے پاکستان کو ایک سال کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم فروری 2020 تک پاکستان صرف 14 سفارشات پر ہی عمل درآمد کر سکا لہٰذا پاکستان کو اکتوبر 2020 تک کا مزید وقت دیا گیا تاکہ باقی 13 سفارشات پر بھی عمل درآمد کروایا جا سکے۔
لیکن اکتوبر 2020 میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جس میں مزید کام درکار ہے اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا۔
ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اکتوبر میں جن چار شعبوں کی نشاندہی کی گئی تھی وہ یہ ہیں:
1) پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا عملی مظاہرہ کریں کہ وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کی نشاندہی کر کے نہ صرف اس کی تحقیقات کر رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں ملوث افراد اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں اور ان کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
2) اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف جو قانونی کارروائی کی جائے اس کے نتیجے میں انھیں سزائیں ہوں جس سے ان جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن ہو پائے۔
3) اقوام متحدہ کی فہرست میں نامزد دہشتگردوں اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی جائیں تاکہ انھیں فنڈز اکھٹا کرنے سے روکا جا سکے اور ان کے اثاثوں کی نشاندہی کر کے منجمد کیا جائے اور ان تک رسائی روکی جائے۔
4) پاکستان یہ بھی یقینی بنائے کہ دہشت گردی کی معاونت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں جیسا کہ بینک وغیرہ کو انتظامی اور دیوانی سزائیں ملیں اور اس سلسلے میں صوبائی اور وفاقی ادارے تعاون کریں۔