کینیڈا میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے فضائی میزبان فلائٹ اسٹیورڈ رمضان گل کے لاپتا ہونے کے محض 24 گھنٹے کے دوران خاتون میزبان ایئر ہوسٹس زاہدہ بلوچ بھی لاپتا ہوگئی ہیں۔
ایئر ہوسٹس زاہدہ بلوچ ایئرلائن کی پرواز پی کے-797 کے پر سوار تھیں اور ان کے لاپتا ہونے کا علم 31 جنوری کو اس وقت ہوا جب پرواز پاکستان واپسی کی تیاری کررہی تھی۔
خیال رہے کہ 31 جنوری کو ہی فلائٹ اسٹیورڈ رمضان گل ایئرلائن کی پرواز پی کے-798 کے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اترنے کے فوری بعد مبینہ طور پر لاپتا ہوگئے تھے۔
اس حوالے سے ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ ایئر ہوسٹس زاہدہ بلوچ 29 جنوری کو کراچی سے ٹورنٹو کی پرواز پر تعینات تھیں۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کا علم ہے جبکہ پی آئی اے انتظامیہ نے کینیڈین ایمیگریشن اتھارٹی کو بھی فضائی میزبان کی گمشدگی سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔
ترجمان پی آئی اے نے کہا کہ فضائی میزبان کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ فضائی میزبان جنرل ڈکلئیریشن پر کینیڈا جاتے ہیں اور واپسی پر ایک بندے کی کمی پر کینیڈین امیگریشن کو اطلاع کرنا لازمی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایئر ہوسٹس کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
علاوہ ازیں پی آئی اے جنرل منیجر فلائٹ سروسز عامر بشیر نے بتایا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نیا ہدایت نامہ جاری کردیا ہے جس کے تحت فضائی میزبانوں کے پاسپورٹ اسٹیشن منیجر کی تحویل میں رہیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ فضائی میزبانوں کے پاسپورٹ پروازوں کی روانگی کے وقت چیک اِن پر واپس ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل آمد کو یقینی بنانے کے لیے جانچ پڑتال لازمی ہوگی اور کسی بھی فضائی میزبان کی کمی پر ہوٹل عملہ فوری اطلاع دے گا۔
پی آئی اے حکام نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے فضائی میزبانوں کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہیں جس کے بعد کسی بھی فضائی میزبان کو رات کے اوقات میں ہوٹل کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
اسی نوعیت کا واقعہ محض گزشتہ روز سامنے آیا تھا پی آئی اے کا فضائی میزبان (فلائٹ اسٹیورڈ) ایئرلائن کی پرواز پی کے-798 کے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اترنے کے فوری بعد مبینہ طور پر لاپتا ہوگیا تھا۔
مذکورہ معاملہ کینیڈا میں پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر کے نوٹس میں لایا گیا تھا جنہوں نے ایئرپورٹ اتھارٹی کو فضائی میزبان کی اپنے سینئرز کو بتائے بغیر غائب ہوجانے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔
واضع رہے کہ بلوچ رہنما کریمہ بلوچ بھی کینیڈا میں لاپتہ ہوئے تھے بعدازاں وہ مردہ حالت میں پائے گئے ۔