متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین گزشتہ کئی روز سے علیل ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے آرام کا مشورہ دیا ہے۔
ان کی طبیعت کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں تاہم اس حوالے سے ایم کیو ایم کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے آفیشل ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے 23 جنوری کو ایک ٹوئٹ کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے چیک اپ کے بعد انہیں سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے آرام کا مشورہ دیا ہے۔
ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کی مرکزی رابطہ کمیٹی، کارکنان اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ الطاف حسین کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرے۔
بعد ازاں 28 جنوری کو کی گئی ایک ٹوئٹ میں ایم کیو ایم لندن کے کنوینر طارق جاوید نے بھی ایک بیان دیا کہ الطاف حسین طبیعت ناسازی پر ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔
علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے ٹوئٹر اکاو¿نٹ سے ہی 31 الطاف حسین کے ایک آڈیو بیان کا لنک بھی جاری کیا گیا۔
اپنے اس آڈیو پیغام میں الطاف حسین کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’میں گزشتہ 20 دنوں سے ہسپتال میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں آئی سی یو میں داخل ہوں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’دنیا کے ہر حصے سے دعائیں کی جارہی ہیں اور ان دعاو¿ں کی وجہ سے میں قابل ہوسکا کہ آپ کو یہ بتا سکوں اور ہفتہ 30 جنوری کو یہ بیان ریکارڈ کروا رہا ہوں، آپ لوگ اور دعا کریں، (مجھے) اللہ پر بھروسہ ہے وہ آپ سب کی دعائیں سنے گا اور میں جلد صحتیابی کے بعد بات کروں گا‘۔
الطاف حسین نے کہا کہ ’اللہ سب کو اس بیماری کووڈ 19 سے محفوظ رکھے‘، سب لوگ احتیاط کریں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔
بعد ازاں 28 جنوری کو کی گئی ایک ٹوئٹ میں ایم کیو ایم لندن کے کنوینر طارق جاوید نے بھی ایک بیان دیا کہ الطاف حسین طبیعت ناسازی پر ڈاکٹروں کے مشورے پر آرام کر رہے ہیں۔